طرف پیٹھ نہ کرے اور پاؤں پر پاؤں نہ رکھے۔ٹھوڑی کے نیچے ہتھیلی نہ رکھےاور نہ کلائی کو سر کا تکیہ بنائےکہ یہ سستی کی علامت ہے ۔بچے کو بیٹھنے کا طریقہ سکھائےاور اسے زیادہ باتیں کرنے سے منع کرےاور بتائے کہ زیادہ باتیں کرنا بے حیائی کا باعث ہے جو ذلیل لوگوں کاکام ہے۔قسم کھانےسے چاہے سچی ہو یا جھوٹی بالکل منع کردے تاکہ چھوٹی عمر سے ہی قسم نہ کھانا اس کی عادت ہوجائے۔گفتگو میں پہل کرنے سے منع کرے اور اسے اس بات کا عادی بنائے کہ جب تم سے کوئی سوال کرے تم اس وقت ہی کلام کرو اور سوال کے مطابق اسے جواب دو۔ اسے سمجھائے کہ جب تم سے عمر میں کوئی بڑا گفتگو کررہا ہو تو غور سے اس کی بات سنواور بڑے کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوجاؤاور اسے بیٹھنے کے لئے جگہ دو اور خود اس کے سامنے بیٹھ جاؤ۔ بچے کوبے کار باتوں، بیہودہ گفتگو،لعن طعن اورگالی گلوچ سے روکےاور ایسے لوگوں کی صُحْبَت سے بھی منع کرے جن کی زبان پر یہ چیزیں عام رہتی ہیں کیونکہ بُری صحبت سے یقیناًایسی باتیں بچے میں پیدا ہوجاتی ہیں اور بچوں کی اصل تادیب ہی بُرے دوستوں سےانہیں دور رکھنا ہے۔بچے کو سمجھائے کہ جب اُستاد اسے مارے تو شور شرابہ نہ کرے، نہ ہی کسی کو سفارشی بنائے بلکہ صبر سے کام لے کہ صبر سے کام لینا بہادروں اور مردوں کا شیوہ ہے جبکہ چیخ وپکار کرنا غلاموں اور عورتوں کا کام ہے۔
مدرسے سے واپسی پر بچے کو کوئی اچھا کھیل کھیلنے کی اجازت دے تاکہ اس سے مدرسے کی تھکاوٹ دور ہوکیونکہ بچہ کھیلنے سے نہیں تھکتا اگر اسے کھیلنے سے منع کردیا جائے اور مسلسل پڑھائی پر لگادیا جائے تو اس کا دل مردہ ہوجاتا ہےاور ذَہانت کو دھچکا لگتاہےاور اس کی زندگی اس کے لئے تلخ ہوجاتی ہےجس کے باعث وہ پڑھائی سے جان چھڑانے کے لئے حیلے بہانے تلاش کرتاہے۔ بچے کو والدین،استاد اور جو اس کی تربیت کررہا ہو اس کی اطاعت کی تعلیم دے ۔یوں ہی جو اس سے عمر میں بڑا ہےچاہے قریبی ہویااجنبی اس کی اِطاعت کا کہےاور اسے سمجھائے کہ بڑوں کو تعظیم کی نگاہ سے دیکھےاور ان کےسامنے کھیل کھود نہ کرے۔
سِنِ تمیز اور اس کے آداب:
جب بچہ سِنِّ تمیزکو پہنچے(یعنی سمجھدار اور باشعور ہوجائے)تو اب وضو ونمازمیں اس کی غفلت سے چشم پوشی نہ کرےاور اس سے رمضان کےکچھ نہ کچھ روزے رکھوائے نیز ریشم وحَرِیْر اورسونا پہننے سے اسے منع کرے