Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
224 - 1245
 واَہَمِّیَت نکل جائے گی۔ باپ کو چاہئےکہ گفتگو میں  اپنی ہیبت برقرار رکھے، جھڑکنے کی ضرورت ہوتو کبھی کبھارجھڑکےاور ماں کو چاہئے کہ وہ بچے کو باپ کا خوف دلائے اور بُرے کاموں پر اسے ڈانٹ ڈپٹ کرے۔
بچے کو بعض چیزوں کی عادت ڈالو اور بعض سے بچاؤ:
	سرپرست کو چاہئے کہ بچے کو دن میں سونے سے روکےکہ دن میں سونا اس کے لئے سستی کا باعث ہے،ہاں! رات کوسونے سے نہ روکے۔نرم وگداز بستر سے اسے منع کرے تاکہ اس کے اعضاء میں سختی رہےاور اس کے بدن کوموٹا نہ ہونے دے ورنہ وہ کھانے پینے سے صبر نہیں کرسکے گابلکہ اسے سونے ،لباس اور کھانے کے معاملے میں سادگی  کی عادت ڈالے۔بچے کوکو ئی بھی کام پوشیدہ طور پر کرنے سے روکےکیونکہ جسے وہ بُرا خیال کرتا ہے اسے چھپ کر کرتا ہے۔ جب اسے پوشیدہ کام کرنے سے رُکنے کی عادت ڈال دےگاتو سامنے کبھی وہ بُرا  کام نہیں کرے گا۔ بچے کو دن کے کسی  وقت میں  پیدل چلنے اور ورزش  کی عادت ڈالے تاکہ اس پر سستی غالب نہ ہواور اسے بتائے کہ اپنے جسم کے حصوں کو(کسی کے سامنے) ظاہرنہ کرےاورتیز چلنے سے گریز کرنےکا کہےنیز اسے بتائے کہ (کسی بڑے کے سامنے) ہاتھوں کو کھلا نہ چھوڑےبلکہ ہاتھ باندھ کر رکھے۔اسی طرح اسے اپنے دوستوں کے درمیان باپ کی کسی ملکیت یاکھانے اور پہننےیا تختی اور دوات وغیر ہ کسی چیز پر فخر کرنے سے منع کرے بلکہ اسے ہر ملنے جلنے والے کی عزت کرنے ،عاجزی سے پیش آنے اور ہر کسی کے ساتھ نرمی سے گفتگو کرنے کا عادی بنائے۔اسے اپنے ساتھیوں سے کوئی چیز لینے سے منع کرے اگر وہ امیر زادہ ہےتو اسے بتائےبڑائی تو دینے میں ہے نہ کہ  لینے میں اور لینے میں ذِلَّت ورُسوائی ہےاور اگر وہ غریب ہےتو اسے سمجھائےکہ لالچ کرنا اور مانگ کر لینا ذِلَّت ورُسوائی کا باعث اور کتے کی عادت ہے کہ وہ لقمے کے انتظار اور لالچ میں دُم ہلاتا رہتاہے ۔ 
	بچے کے سامنے سونے،چاندی سے محبت کی قباحت او ر ان کے لالچ کی مَذمَّت بیان کرے،اسےسانپ اور بچھوؤں کے مقابلے میں زیادہ خطرناک قرار دے کیونکہ بچوں بلکہ بڑوں کے لئے بھی سونے چاندی کی محبت اوراس کی لالچ زہر سے بھی زیادہ نقصان دِہ ہے۔بچے کو اس بات کی عادت ڈالے کہ جب وہ کسی مجلس میں بیٹھے توتھوکنے اور ناک صاف کرنے سے گریز کرے اور دوسروں کی موجودگی میں جمائی نہ لے، کسی کی