Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
223 - 1245
بچے کی نگرانی کرنا:
	بچے کوایسے شخص کے ساتھ میل جول سے بھی منع کرے جس کی باتیں  سن کر اسے بُرے کام  کی رغبت پیدا ہو۔بچے کو شروع میں کھلی چھوٹ  نہ دے کیونکہ کھلی  چھوٹ دینے کی صورت میں اکثر اوقات وہ بُرے اَخلاق میں مبتلا ہوجاتاہےجیسے جھوٹ بولنا،حسد کرنا،چوری کرنا،چغلی کھانا،جھگڑنا،فضول گفتگو کرنا،بلا وجہ ہنسنا،دھوکا دہی اور ہنسی مذاق کرنا۔ان تمام بُرے اخلاق سے اسی صور ت میں بچا جاسکتاہےجب اس کی اچھی تربیت کی جائے۔
بچے کو قرآن وحدیث کی تعلیم دلانا:
	مذکورہ آداب کی تکمیل کے بعد بچے کومدرسے میں بھیجےجہاں وہ قرآن پاک اور احادیثِ مبارَکہ کی تعلیم حاصل کرےاور نیک لوگوں کے واقعات اور ان کے احوال سے آگاہی حاصل کرے تاکہ اس کے دل میں صالحین کی محبت پیدا ہو۔ایسے اشعار سے بچے کو دور رکھے جس میں عشق اور عاشق معشوق کا تذکرہ ہواور ایسے ادیبو ں سے بھی بچے کو دور رکھے  جو ان اشعار کوظَرافت  اور رِقَّتِ طبع(طبیعت کی نرمی) پر محمول  کرتے ہیں  کیونکہ یہ اشعار بچوں کے دل میں فساد کا بیج بو دیتےہیں۔
حُسنِ اَخلاق پر اِنعام اور بداَخلاقی پر ڈانٹ ڈپٹ  کرنا:
	جب بچے سے اچھے اَخلاق  اور عمدہ اَفعال ظاہر ہوں تو اسے کچھ نہ کچھ اِنعام سے نوازےاور اس پر خوشی کا اظہار کرے اورحوصلہ افزائی کے لئے لوگوں کے سامنےاس کی تعریف کرے۔اگر ایک آدھ بار بچہ حُسنِ اَخلاق کے خلاف کوئی کام کربیٹھے تو اس سے چشم پوشی کرےاور اس کی پردہ پوشی کرے نیز اس پر ظاہر نہ ہونے دےبالخصو ص جب بچہ خود اسےچھپا رہا ہواور اس کے چھپانے کی کوشش کررہاہوکیونکہ اس کے اظہار میں بچہ بسا اوقات جری ہوجاتاہے پھر وہ راز کھلنے کی بھی پروا نہیں کرتا۔ہاں! اگر دوبارہ یہ کام کرےتو اکیلے میں اسے ڈانٹ ڈپٹ کرےاور بتائے کہ تونے بہت بُری حرکت کی ہے خبردارآئندہ ایساکبھی نہ کرنااگر ایسا کرو گے تو لوگوں کے سامنےذِلَّت ورُسوائی ہوگی۔ہر وقت اسے ڈانتا بھی نہ رہے کہ اس طرح وہ ملامت سننےکا عادی ہوجائے گا اور بُرے کاموں پر اسے جُرأت ہوجائےگی اور اس کے دل سے  بات کی وُقعت