Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
222 - 1245
سے ہدایت اور بشارت ہے جو اَخلاق کے مُعْتَدِل ہونے اور قلب کی صفائی پر دلالت کرتی ہےاور اس بات کی علامت ہے کہ بڑے ہوکر اسے کامل عقل نصیب ہوگی۔ جب بچے میں حیا پیدا ہوجائے تواس کی طرف سے لاپروائی اختیار نہیں کرنی چاہئے بلکہ اس کی حیا اور تمیز کے مطابق اسے ادب سکھانا چاہئے۔
کھاناکھانے کے12آداب:
	بُری صفات میں سے جو چیز سب سے پہلےغالب آتی ہے وہ کھانے کی حرص ہےتو مناسب ہے کہ سب سے پہلے بچے کو کھانے کے آداب سکھائے جائیں مثلاً:اسے بتائے کہ(۱)…دائیں ہاتھ سےکھائے۔ (۲)…بِسْمِ اللہ پڑھ کر کھائے۔ (۳)…اپنی جانب سے کھائے۔ (۴)…دوسروں سے پہلے کھانے کی کوشش نہ کرے۔ (۶)…کھانے اور (۷)…کھانے والے کی طرف گُھور کر نہ دیکھے۔ (۸)…جلدی جلدی نہ کھائے۔ (۹)…اچھی طرح چپاکر کھائے۔ (۱۰)…پے در پے لقمے نہ لے۔ (۱۱)…ہاتھ سالن سے نہ بھرے۔ (۱۲)…کپڑوں پر سالن نہ گرائے۔
زیادہ کھانے کی مَذمَّت بیان کرنا:
	بچےکو روکھی روٹی کھانے کی بھی عادت ڈالے تاکہ وہ یہ نہ سمجھے کہ روٹی کے ساتھ سالن ضروری ہے، اس کے سامنےزیادہ کھانا کھانے کی مَذمَّت بیان کرےاور زیادہ کھانے والےکو جانوروں کے ساتھ تشبیہ دے، اسی طرح اس کے سامنے زیادہ کھانے والے بچے کی بُرائی بیان کرے اور کم کھانے والے بچے کی تعریف کرے، اسے کھانا اِیثار کرنے کی ترغیب دلائے،کھانے کے معاملےمیں پروا  نہ کرنے کاکہے، کھانے میں جو کچھ مُیَسَّر آئے اس پر قناعت کرنے کاکہے۔
کپڑوں  کے متعلق آداب:
	بچے کو رنگین اور ریشمی لباس کے بجائے سفید لبا س کی ترغیب دلائےاور بتائے کہ رنگین اور ریشمی لباس پہننا عورتوں اور ہیجڑوں کا کام ہےجبکہ مرد اسے بُراجانتے ہیں اور یہ بات اسے بار بار ذہن نشین کرائے، جب  بچے کو ریشمی اور رنگین لباس پہنے دیکھے تو ناپسندیدگی کا اِظہار کرےاور اس کی مَذمَّت بیان کرےاوربچے کو ایسے بچوں سے دور رکھے جو نازونِعَم کے عادی ہیں اورعمدہ کپڑے پہنتے ہیں ۔