ہے،اس کا پاک دل ایک ایساجوہر نایاب ہے جو ہر نقش وصورت سے خالی ہے، لہٰذا وہ ہر نقش کو قبول کرنے والا اور جس طرف اسے مائل کیا جائے اس کی طرف مائل ہوجانے والاہے۔اگراسےاچھی باتوں کی عادت ڈالی جائے اور اس کی تعلیم وتربیت کی جائے تواسی پر اس کی نَشْوونَما ہوتی ہے،جس کے باعث وہ دنیا وآخرت میں سعادت مند ہوجاتاہے اور اس کے ثواب میں اس کے والدین،اساتذہ اور تربیت کرنے والے سب شریک ہوتے ہیں ۔ اگر اسے بُرائی کی عادت ڈالی جائے اور جانوروں کی طرح چھوڑدیا جائے تو وہ بدبختی کا شکا ر ہوکر ہلاک ہوجاتاہےاور اس کا گناہ اس کے سرپرست کی گردن پر ہوتاہے۔چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشادفرماتاہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ وَ اَہۡلِیۡکُمْ نَارًا(پ۲۸،التحریم:۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آ گ سے بچاؤ۔
بچے کی تربیت کا طریقہ:
جس طرح باپ بچے کو دنیا کی آگ سے بچانے کی کوشش کرتاہےاسی طرح اسے چاہئے کہ اپنے بچے کو جہنّم کی آگ سے بھی بچائےاور جہنّم کی آگ سے بچانے کا طریقہ یہ ہے کہ بچے کی تربیت کرے،اسے تہذیب سکھائے، اچھے اخلاق کی تعلیم دے،بُرے دوستوں سے دور رکھے، آسائشوں کی عادت نہ ڈالے، زیب وزینت اور عیش پسندی کی محبت اس کے دل میں پیدا نہ ہونے دےکہ وہ اس کی طلب میں اپنی عمر ضائع کردے گا۔ پھر جب بڑا ہوگاتو دائمی ہلاکت میں مبتلاہوجائے گا۔لہٰذاشروع سے ہی اس کی نگہداشت رکھے، کسی دین دار عورت کی پَرْوَرِش میں دے جو صرف حلال کھاتی ہو اور اسی سے دودھ پلوائے کیونکہ جو حرام کھاتی ہے اس کے دودھ میں برکت نہیں ہوتی نیز جب بچے کی نَشْوونَما حرام غذاسے ہوگی تو اس میں خباثتیں بھر جائیں گی اور ان ہی خبائث کی طرف اس کی طبیعت مائل ہوگی۔پھر جب اس میں تمیز اور سمجھداری کے آثار دیکھے تو اچھے طریقے سے اس کی نگرانی کرےاور تمیز اور سمجھداری کے بارے میں اس طرح پتا چلے گاکہ اولاً اس میں حیا کا ظہور ہوگا کیونکہ جب وہ حیا کرتے ہوئے بعض کاموں کو چھوڑ دے گاتو یہ بات اس پر دلالت کرے گی کہ اس میں عقل کا نور چمک رہا ہے جس کی روشنی میں وہ بعض اشیاء کو قبیح دیکھتا ہے اور بعض کو نہیں، یوں وہ بعض سے حیا کرتےہوئے بچےگا اور بعض سے نہیں اور یہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف