جواب نہ دیا دوسری اور تیسری بار پھر بلایا اس نے پھر کوئی جواب نہ دیا یہ دیکھ کر آپ اس کی طرف گئے دیکھا تو وہ لیٹا ہواہےآپ نے اس سے کہا:کیا تم نے میری آواز نہیں سنی تھی ؟غلام نے کہا: سنی تھی ۔آپ نے فرمایا:پھر تم نے میری بات کا جواب کیوں نہیں دیا؟غلام نے کہا:آپ کی طرف سے سزا سے بے خوف تھااس وجہ سے سستی کے باعث جواب نہ دے سکا۔یہ سن کرآپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےفرمایا:جاتواللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے آزاد ہے۔
﴿5﴾…سیِّدُنامالک بن دینار رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکی بُردباری:
ایک عورت نے حضرت سیِّدُنا مالک بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکواے ریاکار کہہ کر پکارا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:اے عورت!تونے میرا وہ نام لیا جسے بصرہ کے لوگ بھول گئے تھے۔
﴿6﴾… سیِّدُنایحییٰ بن زِیادرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکی بُردباری:
حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن زِیادحارِثی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ایک بداَخلاق غلام تھا۔ لوگوں نے عرض کی:آپ نے اسے اپنے پاس کیوں رکھا ہوا ہے؟ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرمایا:اس لئے تاکہ میں اس سے بُردباری کا مظاہرہ کروں۔
یہ وہ نُفُوسِ قُدْسِیَّہ ہیں جنہوں نے مجاہَدہ وریاضت کے ذریعے اپنے نفسوں کو مغلوب کیااور اسے اعتدال پر لے آئے۔کھوٹ، کینہ اور بغض سے اپنے باطن کو پاک کیا جس کے نتیجے میں یہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مشِیَّت ورضا پر راضی ہوگئےاور یہی حُسنِ اَخلاق کی اِنتہا ہے۔کیونکہ جواللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کام کو پسند نہیں کرتا اور اس کی رضا پر راضی نہیں رہتاوہ انتہائی درجے کا بداَخلاق ہے۔ ان نُفُوسِ قُدْسِیَّہ کے ظاہر پر یہ علامتیں ظاہر ہوچکیں جیساکہ ہم نے اسے ذکر کیاتو اگر کوئی شخص اپنے اند ر یہ علامات نہیں پاتاتو وہ اپنے نفس کے متعلق دھوکے میں نہ رہےکہ وہ حُسنِ اَخلاق کا پیکر ہے بلکہ اسے چاہئے کہ مجاہدہ ورِیاضت میں مشغول ہوجائےیہاں تک کہ وہ حُسنِ اَخلاق کے درجے کو پہنچ جائے اور یہی بلند درجہ ہے جسے مُقَرَّبِین اور صِدِّیْقِین ہی پا تے ہیں۔
پانچویں فصل: بچوں کی تعلیم وتربیت کابیان
یہ بات جان لینی چاہئےکہ بچوں کی تربیت اَہَمّ اور تاکیدی اُمُورمیں سے ہے، بچہ والدین کے پا س امانت