Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
22 - 1245
 ہے۔ دل کے اور بھی لشکر ہیں، مثلاً علم وحکمت اور غور وفکر، عنقریب ان کی وضاحت بھی کی جائے گی۔
	انسان کو چاہئے کہ علم وحکمت اور غور وفکر سے مدد حاصل کرے کیونکہ یہ لشکر غصہ و خواہش کے خلاف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جماعت ہیں جبکہ یہ دونوں بعض اوقات شیطانی گروہ میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اگر انسان علم و حکمت اور غور وفکر سے مدد طلب کرنا چھوڑ دے اور غصہ و خواہش کو اپنے اوپر سوار کرلے تو یقیناً ہلا ک  ہوجائے گا اور سخت نقصان اٹھائے گا۔ اکثر لوگوں کا یہی حال ہے۔ ان کی عقلیں خواہشات پوری کرنے کے مختلف حیلے بہانے تلاش کرتے کرتے ان کے تابع ہوچکی ہیں حالانکہ خواہشات کو ان کی عقلوں کے تابع ہونا چاہئے تھا تاکہ ضروری معاملات پورے کئے جاسکیں۔
	اب ہم تین مثالیں بیان کرتے ہیں تاکہ اس کا سمجھنا مزید آسان ہوجائے۔
دل کے لشکر اورتین مثالیں:
	پہلی مثال:انسانی جسم میں دل یعنی ربانی لطیفہ بادشاہ اور حاکم کی مثل ہے کہ جسم اس ربانی لطیفہ کی سلطنت، جاگیر، اس کا ٹھکانااور شہر ہے اور ظاہری اعضاء اور باطنی قوتیں گویا اس کے تحت کام کرنے والا عملہ ہے اور غور وفکر کرنے والی قوت یعنی عقل اسے نصیحت کرنے والے مشیراورعقل مند وزیر کی مثل ہے اور خواہش اس برے شخص کی مثل ہے جو گاؤں سے شہر کھانے کی اشیاء مہنگے داموں بیچنے آتا ہے اور غصہ اس شہر کے سپاہی کی مثل ہے۔ گاؤں سے شہر مہنگے داموں کھانے کی اشیاء بیچنے کے لئے  آنے والا جھوٹا، مکار اور دھوکے باز شخص ہمدردی اور نصیحت کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے اور اس کی ظاہری نصیحت درحقیقت بھیانک فساد اور زہرقاتل ہے، وزیر سے جھگڑنا اور اس کے خلاف رائے قائم کرنا اس کی عادت ہے گویا وہ اس سلطنت کا مالک ہے، اس کا کوئی لمحہ جھگڑے سے خالی نہیں گزرتا۔
	بادشاہ کو چاہئے کہ اپنی سلطنت کی دیکھ بھال کے معاملے میں وزیر کے مشوروں پر عمل کرے اور اس مکارشخص کی باتوں پر توجہ نہ دے اور یہ بات سمجھ لے کہ اس کی رائے نہ ماننے میں ہی بھلائی ہے۔نیز اپنے سپاہیوں کو بطورِتادیب وسرزنش وزیر کی فرمانبرداری کا حکم دے، اس مکار اور اس کے مددگاروں پر ہرطرف سے سپاہیوں کا پہرا بٹھا دے حتّٰی کہ یہ مکار مغلوب ہوکر حکم کا تابع اور نظام کا پابند ہوجائے، جبھی