نے فرمایا:حُسنِ اَخلاق کا ادنیٰ درجہ یہ ہے: ٭…تکلیف برداشت کرنا،٭…انتقام نہ لینا،٭…ظالِم پررحم کرنا،٭…اس کے لئے بخشش چاہنااور٭…اس سے نرمی برتنا۔
بُردباروں کی چھ حِکایات
﴿1﴾…سیِّدُناقیس بن عاصمرَضِیَ اللہُ عَنْہکی بُردباری:
حضرت سیِّدُنااَحنف بن قیسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے پوچھا گیا کہ آپ نے بُردباری کہاں سے سیکھی ہے؟ فرمایا:حضرت سیِّدُنا قیس بن عاصم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ۔ پوچھا گیا :وہ کس قدر بُردبار تھے ؟ فرمایا :ایک مرتبہ وہ اپنے گھر میں بیٹھے تھے کہ ایک لونڈی ان کےپاس سیخ لائی جس پربھنا ہوا گوشت تھا، وہ ا س کے ہاتھ سے گر کر آپ کے ایک چھوٹے صاحبزادے پر جاگری جس کے باعث اس کا اِنتقال ہوگیا۔ لونڈی یہ دیکھ کر ڈرگئی تو انہوں نے فرمایا: ڈرنے کی ضرورت نہیں میں نے تجھےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے آزاد کیا ۔
﴿2﴾…سیِّدُنا اُویس قرنیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکی بُردباری:
حضرت سیِّدُنا اُویس بن عامرقرنیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیکوبچے جب پتھر مارتے توآپ ان سے فرماتے:اےبچو! اگر تم نے پتھرمارنے ہی ہیں تو چھوٹے چھوٹے پتھر مارو کہ کہیں بڑے پتھروں کے باعث میری پنڈلی زخمی نہ ہوجائے اور میں نماز ادا نہ کرسکوں۔
﴿3﴾…سیِّدُنااَحنف بن قیسرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکی بُردباری:
ایک شخص نے حضرت سیِّدُنااَحنف بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو گالی دی آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا وہ گالی دیتے ہوئے آپ کے پیچھے پیچھے چلنے لگاجب آپ محلے کے قریب پہنچےتو ٹھہر گئے اور اس سے کہا: تمہارے دل میں کوئی اوربات بھی ہےتو یہیں کہہ دو ورنہ محلےکے ناسمجھ لوگ تمہاری بات سن کر تمہیں تکلیف پہنچائیں گے۔
﴿4﴾…سیِّدُنا علی رَضِیَ اللہُ عَنْہکی بُردباری:
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اپنے ایک غلام کو بلایا تو اس نے کوئی