Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
218 - 1245
لئے پانی لاؤ۔ آپ  اُٹھے اور اس کی ہر بات کی تعمیل کرنے لگے۔ حمام والا آیا تودیہاتی  کے کپڑے دیکھے اورآپ کے ساتھ اس کی گفتگو سنی تو خوف کے مارے ان دونوں کو اسی حالت میں چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ جب آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ باہر تشریف لائے تو حمام والے کےمتعلق دریافت فرمایا،عرض کی گئی کہ وہ یہ معاملہ دیکھ کر  گھبرا کر بھاگ گیا ہے۔ یہ سن کر آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے (بطورِ عاجزی) فرمایا: اسے بھاگنا نہیں چاہئے تھاقصورتو اس شخص کا ہے جس نے اپنا نطفہ سیاہ لونڈی کے رحم میں  رکھا۔
﴿5﴾…کھوٹے سکے:
	حضرت سیِّدُناابُوعبْدُاللہ خیّاطرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہدُکان پر بیٹھ کرکپڑے سِلائی کرتے تھے،ایک آتش پرست (آگ کی پوجا کرنے والا)آپ سے کپڑے سِلواتا اورہر بار اُجرت میں کھوٹے سکےدے جاتا۔آپ خاموشی سے رکھ لیتے اور کھوٹے سکوں کے متعلق کچھ کہتے نہ ہی واپس لوٹاتے۔ایک دن آپ کسی کام سے کہیں چلےگئے۔آپ کی غیر موجودگی میں وہ آتش پرست آیا، آپ کو نہ پاکر شاگرد کو کھوٹےسکے دے کر اپنا کپڑا مانگا۔شاگرد نے کھوٹے سکے دیکھےتو لینے سے انکار کردیا۔آپ واپس تشریف لائےتو شاگرد نے ساراماجرا بیان کیا۔یہ سن کر آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:تم نے بُرا کیا۔یہ آتش پرست مجھے کئی  سال سے کھوٹے سکے ہی دیتا آرہاہے میں اس نیت سے لے کر رکھ لیتا اور کنویں میں ڈال دیتا ہوں کہ کہیں وہ ان سے دوسرے مسلمانوں کو دھوکا نہ دے۔
حُسنِ اَخلاق کی 10علامات:
	حضرت سیِّدُنایُوسُف بن اسباطرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:حُسنِ اَخلاق کی10علامات ہیں: (۱)…لوگوں سےاختلاف کم کرنا۔(۲)…اچھی طرح انصاف کرنا۔(۳)…انتقام نہ لینا۔(۴)…لوگوں سے ظاہر ہونےوالی برائیوں کی اچھی تاویل کرنا۔(۵)…معذرت کرنا۔(۶)…تکلیف برداشت کرنا۔(۷)…اپنے نفس کو ملامت کرتے رہنا۔(۸)…دوسروں کی عیب جوئی کے بجائے اپنے عُیُوب پر نظر رکھنا۔(۹)…چھوٹےبڑے سے خوش مزاجی سے پیش آنااور(۱۰)…ادنیٰ و اعلیٰ دونوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا۔
حُسنِ اَخلاق کا اَدنیٰ درجہ:
	حضرت سیِّدُناسَہْل بن عبداللہ تُسْتَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیسے حُسنِ اَخلاق کے متعلق سوال کیا گیاتو آپ