Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
217 - 1245
 ہوسکا۔یہ سن آپ واپس لوٹ آئے۔ ابھی آپ تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ میزبان دوبارہ بلانے آگیا،آپ دوبارہ اس کےساتھ تشریف لے گئے تو اس نے دوبارہ کہا :لوٹ جائیے مجھ سے اِہتمام نہیں ہوسکا۔آپ لوٹ آئے، وہ تیسری مرتبہ آپ کو بلانے آ گیاجب آپ اس کے پاس پہنچے تو اس نے پھرکہا: لوٹ جائیے وقتِ مُقَرَّرَہ پر تشریف لایئے گا۔آپ لوٹ آئےدروازے تک پہنچے تو وہ پھر بلانے آگیاپھر اس نے پہلے کی مثل یہی بات کہی کہ اِہتمام نہیں ہوسکا۔آپ یہ سن کر لوٹ آئےاس طرح کئی مرتبہ اس نے آپ کے ساتھ یہ معاملہ کیالیکن آپ کے ماتھے پر شِکَن تک نہ آئی یہ دیکھ کرمیزبان آپ کے قدموں پر گر پڑااور کہنے لگا :میں تو بس آپ کا اِمتحان لینا چاہ رہا تھا کہ آپ کس قدر حُسنِ اَخلاق کے مالک ہیں۔یہ سن کر حضرت سیِّدُنا ابو عثمان حیریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے (عاجزی کرتے ہوئے)فرمایا:یہ تو کتے کی عادت کہ جب اسے بلایا جائے تو آجاتاہے جب دُھتکارا جائے تو چلا جاتا ہے۔
﴿3﴾…راکھ ڈالنے والے کو کچھ نہ کہا:
حضرت سیِّدُنا ابو عثمان حِیریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے متعلق یہ واقعہ بھی منقول ہے کہ ایک مرتبہ آپ ایک گلی سے گزرے تو کسی نے آپ پر راکھ پھینک دی۔آپ اپنی سواری سے اترے اور سجدہ شکر بجالائے پھر اپنے کپڑوں سے راکھ جھاڑنے لگے اور راکھ ڈالنے والے کو کچھ نہ کہا۔آپ سے کہا گیا کہ آپ راکھ ڈالنے والے کو جھڑکتے  کیوں نہیں؟ تو آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے(عاجزی کرتے ہوئے)فرمایا:جو جَہَنَّم کی آگ کا مستحق ہو اس پر راکھ پڑے تو اسے غصے میں نہیں آنا چاہئے۔
﴿4﴾…سانولی رنگت والے:
مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا علی بن موسٰی رِضا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا رنگ سانولاتھا کیونکہ ان کی والدہ سیاہ فام تھیں۔رہائش نیشاپورمیں تھی۔ آپ کے گھر کے دروازےپر ایک حمام تھا۔ جب آپ حمام میں داخل ہونا چاہتے تو آپ کے لئے حمام خالی کر دیا جاتا۔ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ  آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حمام میں داخل ہوئے تو حمام والا بے خبری میں حمام کا دروازہ بند کرکے اپنے کسی کام سے چلا گیا۔اسی دواران  ایک دیہاتی آیا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیااس نے آپ کو دیکھا تو حما م کاخادم خیال کرتےہوئےکہا:اٹھو اور میرے