Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
216 - 1245
منقول  ہے کہ یہ دعا آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غزوۂ اُحد کے دن فرمائی تھی اسی لئےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ کے متعلق یہ آیتِ مُقَدَّسہ نازل فرمائی:
وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ ﴿۴﴾ (پ۲۹،القلم:۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اوربے شک تمہاری خُوبُوبڑی شان کی ہے۔
حُسنِ اَخلاق کے متعلق پانچ حِکایات
﴿1﴾…ظلم کرنے والے کوبھی دعادی:
ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کسی صحرا کی طرف تشریف لے گئے تو ایک سپاہی ملااس نے کہا تم غلام ہو؟فرمایا :ہاں!اس نے کہا:بستی کس طرف ہے؟آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے قبرستان کی طرف اشارہ فرمایا۔سپاہی  نے کہا:میں بستی کے متعلق پوچھ رہاہوں۔فرمایا :وہ تو قبرستان ہی ہے۔ یہ سن کر اسے غصہ آگیااوراس نےکوڑا آپ کے سر پر دے مارا اور زخمی کرکے آ پ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو شہر کی طرف لےگیا۔آپ کے اصحاب نے دیکھ کر پوچھا:یہ کیا ہوا؟سپاہی نے ماجرا بیان کردیا۔انہوں نے سپاہی کو بتایایہ تو(زمانے کے ولی) حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم ہیں ۔یہ سن کروہ  گھوڑے سے اترا اور آپ کے ہاتھ پاؤں چومتے ہوئے معذرت کرنے لگا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھاگیا:آپ نے یہ کیوں کہا کہ میں غلام ہوں۔فرمایا :اس(سپاہی ) نے مجھ سے یہ نہیں پوچھا کہ تم کس کے غلام ہو ؟بلکہ صرف یہ پوچھا کہ تم غلام ہوتو میں نے کہا:ہاں!کیونکہ میں ربّ تعالیٰ کا غلام ہوں۔جب اس نے میرے سر پر مارا تو میں نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے اس کےلئے جنت کا سوال کیا۔عرض کی گئی:اس نے آپ پر ظلم کیا تو آپ نے اس کے لئے دعا کیوں مانگی؟ فرمایا:مجھے یہ معلوم تھا کہ مجھے تکلیف برداشت کرنے پر اجر ملے گاتو میں نے یہ مناسب نہ جانا کہ مجھے تو اجر ملے اور وہ عذاب میں گرفتار ہوجائے۔
﴿2﴾…حُسنِ اَخلاق کا عظیم الشان مظاہرہ:
حضرت سیِّدُنا ابو عثمان حِیْریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکو ایک دعوت میں بلایا گیا ،میزبان آپ کے حُسنِ اَخلاق کا تَجْرِبہ کرنا چاہتاتھا، لہٰذا جب  آپ میزبان کے گھر پہنچے تو اس نے آپ سے کہا :مجھ سے دعوت کا اِنتظا م نہیں