سے نہیں ڈرتا جبکہ منافق خدا کے علاوہ ہر کسی سے خوف زدہ رہتاہے ۔مومن مال کے مقابلے میں دین کوجبکہ منافق دین کو چھوڑ کر مال کو ترجیح دیتاہے۔مومن نیکی کرکے بھی (خوفِ خدا کے سبَب)روتاہے جبکہ مُنافِق بُرائی کرکے بھی ہنس رہا ہوتاہے۔مومن خلوت اور گوشہ نشینی کو پسند کرتاہے جبکہ منافق جلوت اورلوگوں کےساتھ میل جول کو پسند کرتاہے۔مومن بیج بوکر بھی اس کے خراب ہونے کا خوف رکھتاہے جبکہ منافق بَیْخ کَنی(ستیاناس) کرکے بھی کھیتی کی امید رکھتاہے۔مومن تدبیر سےاَمْر بِالْمَعْرُوْف وَنَہِی عَنِ الْمنکرکا فریضہ انجام دیتااور اصلاح کی کوشش کرتاہے جبکہ منافق ریاست کے حصول کے لئے امرونہی کرتا اور فسادبرپا کرتاہے۔
حُسنِ اَخلاق اَذِیّت برداشت کرنے کا نام ہے:
حُسنِ اَخلاق کا پہلا اِمتحان اَذِیَّت پر صبر کرنا اور ظلم برداشت کرناہے جو دوسروں کی بداَخلاقی کی شکایت کرتاہے تو یہ بات خود اس کی اپنی بداَخلاقی پر دلالت کرتی ہےکیونکہ حُسنِ اَخلاق تو اَذِیَّت برداشت کرنے کا نام ہےجیسا کہ حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ میں رحمتِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ جا رہا تھا ،آپ نے موٹی دھاریوں والی نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی،راستے میں آپ کو ایک اعرابی ملا اس نے آپ کی مبارک چادر کوپکڑ کرزور سے کھینچاتو میں نے دیکھاکہ اعرابی کے چادر کو زور سے کھینچنے کی وجہ سے آپ کی مبارک گردن پر چادر کی دھاریوں کے نشان پڑ گئے ، پھر اس اعرابی نے تلخ لہجے میں کہا:اپنے پاس موجوداللہ عَزَّ وَجَلَّکے مال میں سےمجھے کچھ دیجئے۔‘‘تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس اعرابی کی طرف متوجہ ہوکرمسکرانے لگے پھر اس کے لئے کچھ مال دینے کا حکم ارشاد فرمایا۔(1)
یوں ہی جب قریش نے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بہت زیادہ تکلیف پہنچائی اورآپ کولَہُو لُہَان کیاگیاتو آپ نے یہ دعا فرمائی:اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِقَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنیعنی اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!میری قوم کو معاف فرماکہ یہ لوگ مجھے نہيں جانتے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری ، کتاب فرض الخمس، باب ماکان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یعطی المؤلفة…..الخ،۲/ ۳۵۹، حدیث : ۳۱۴۹
2… بخاری، کتاب احادیث الانبیاء،۲/ ۴۶۹، حدیث :۳۴۷۷