﴿9﴾…لَایَحِلُّ لِمُسْلِمٍ اَنْ یُّرَوِّعَ مُسْلِمًایعنی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرےمسلمان کو ڈرائے۔(1)
﴿10﴾…دوشرکائے مجلس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے امین ہوکر شریْکِ مجلس ہوتے ہیں تو ان میں سےکسی کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی کی وہ بات ظاہرکرے جس کا ظاہر کرنا وہ ناپسند جانتاہو۔(2)
حُسنِ اخلاق کی علامات:
کسی صاحبِِ علم نے حُسنِ اَخلاق کی علامات کو جمع کرتےہوئے فرمایا:حُسنِ اَخلاق کاپیکر وہ ہے جوزیادہ حیا والا،کسی کو اَذِیَّت نہ دینے والا،نیک اعمال بجالانے والا،سچ بولنے والا،کم گو،زیادہ عمل کا عادی،لَغْزِشَوں سے حتَّی الْامکان بچتااورفُضُول گُفْتگُوسے پرہیز کرتاہو،نیک،پُروقار،صابر،رضائے الٰہی پرراضی،شکر گزار، بُردبار،نرم طبیعت،پاکدامن اورشفیق ہو،لعنت کرنے والا،گالیاں دینے والا،غیبت کرنے والا،جلدباز،کینہ پَروَر،بخیل اورحاسد نہ ہو بلکہ ہشاش بشاش رہتا ہو،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خاطر محبت اوربغض رکھنے والا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاطرہی کسی سے راضی اورناراض ہونے والا ہو۔
مومن اور منافق کی علامت:
سرکارِ مدینہ،قرارِقلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مومن ومنافق کی علامت کے بارے میں پوچھا گیا توارشادفرمایا:اِنَّ الْمُؤْمِنَ ھِمَّتُہٗ فِی الصَّلَاةِ وَالصِّیَامِ وَالْعِبَادَةِ وَالْمُنَافِقَ ھِمَّتُہٗ فِی الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ کَالْبَھِیْمَةیعنی مومن نماز، روزے اور عبادت کا عزم کئے رکھتاہے جبکہ منافق چوپائے کی طرح کھانے پینے کی فکر میں رہتاہے۔
مومن اور منافق کی علامت:
سرکارِ مدینہ،قرارِقلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مومن ومنافق کی علامت کے بارے میں پوچھا گیا توارشادفرمایا:اِنَّ الْمُؤْمِنَ ھِمَّتُہٗ فِی الصَّلَاةِ وَالصِّیَامِ وَالْعِبَادَةِ وَالْمُنَافِقَ ھِمَّتُہٗ فِی الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ کَالْبَھِیْمَةیعنی مومن نماز، روزے اور عبادت کا عزم کئے رکھتاہے جبکہ منافق چوپائے کی طرح کھانے پینے کی فکر میں رہتاہے۔
مومن اور منافق میں فرق:
حضرت سیِّدُناحاتِم اَصَمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمفرماتے ہیں:مومن غوروفکر اور عبرت حاصل کرنے میں مشغول رہتا ہے جبکہ منافق حرص اورامید میں مبتلا رہتا ہے۔مومناللہ عَزَّ وَجَلَّکے علاوہ ہر کسی سے ناامید ہوتا ہے جبکہ منافقاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علاوہ ہر کسی سے امید لگائے رہتاہے۔مومن صرف خدا کا خوف رکھتا اس کے علاوہ کسی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابی داود ، کتاب الادب، باب من یا خذ الشئ من مزاح،۴/ ۳۹۱، حدیث : ۵۰۰۴
2…الزھد لابن مبارک، باب ماجاء فی الشح ،ص۲۴۰، حدیث : ۶۹۱