Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
210 - 1245
چار فرامین باری تعالیٰ:
	حُسنِ اَخلاق اِیمان کی اوربداَخلاقی نِفاق کی علامت ہے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے قرآنِ کریم میں مؤمنین اور منافقین کی جو صفات بیان فرمائی ہیں وہ  سب کی سب حُسنِ اَخلاق اور بداَخلاقی کا ثمرہ ونتیجہ ہیں۔ چند فرامین باری تعالیٰ ملاحظہ ہوں:
﴿1﴾…
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوۡنَ ۙ﴿۱﴾ الَّذِیۡنَ ہُمْ فِیۡ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوۡنَ ۙ﴿۲﴾ وَالَّذِیۡنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوۡنَ ﴿ۙ۳﴾ وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوۡنَ ۙ﴿۴﴾ وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِفُرُوۡجِہِمْ حٰفِظُوۡنَ ۙ﴿۵﴾ اِلَّا عَلٰۤی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیۡمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ ۚ﴿۶﴾ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْعٰدُوۡنَ ۚ﴿۷﴾ وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہۡدِہِمْ رٰعُوۡنَ ۙ﴿۸﴾ وَالَّذِیۡنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰتِہِمْ یُحَافِظُوۡنَ ۘ﴿۹﴾ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْوٰرِثُوۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾(پ۱۸،المؤمنون:۱تا۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک مراد کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف اِلتفات نہیں کرتے اور وہ کہ زکوٰۃ دینے کا کام کرتے ہیں اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیبیوں یا شرعی باندیوں پر جو اُن کے ہاتھ کی مِلک ہیں کہ ان پر کوئی ملامت نہیں تو  جو ان دو کے سوا کچھ اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں یہی لوگ وارث ہیں ۔
﴿2﴾…
اَلتَّآئِبُوۡنَ الْعٰبِدُوۡنَ الْحٰمِدُوۡنَ السّٰآئِحُوۡنَ الرّٰکِعُوۡنَ السّٰجِدُوۡنَ الۡاٰمِرُوۡنَ بِالْمَعْرُوۡفِ وَالنَّاہُوۡنَ عَنِ الْمُنۡکَرِ وَ الْحٰفِظُوۡنَ لِحُدُوۡدِ
ترجمۂ کنز الایمان:توبہ والے، عبادت والے، سراہنے والے، روزے والے،رکوع والے، سجدہ والے، بھلائی کے بتانے والے اور بُرائی سے روکنے والے اوراللہ کی حدیں نگاہ رکھنے