ظاہری اور باطنی حواسِ خمسہ:
ہم ظاہری لشکر یعنی اعضاء کے بارے میں گفتگو نہیں کریں گے کیونکہ ان کا تعلق ظاہری دنیا سے ہے، البتہ!ہمارا موضوع دکھائی نہ دینے والے باطنی لشکر ہیں جو دل کے مددگار ہیں۔ یہ وہی تیسری قسم ہے جو اشیاء کی پہچان کرتی ہے۔ اس کی مزید دو قسمیں ہیں:(۱)…بعض وہ قوتیں ہیں جن کا ٹھکانا جسم کے ظاہری اعضاء ہیں۔ انہیں (ظاہری)حواسِ خمسہ کہتے ہیں، مثلاً سننا، دیکھنا، سونگھنا، چکھنا اور چھونا۔(۲)…بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا جسم کا باطنی حصہ یعنی دماغ ہے۔ یہ بھی پانچ قوتیں ہیں کیونکہ انسان جب کوئی چیز دیکھنے کے بعد اپنی آنکھیں بند کرتا ہے تو اس کے ذہن میں اس کی صورت بن جاتی ہے اسے ”خیال“ کہتے ہیں۔ پھر وہ صورت دیگر اشیاء کی طرح بعض اوقات انسان کے ذہن میں نقش ہوجاتی ہے اسے ”حافظہ“ کہتے ہیں۔ پھر انسان ذہن میں محفوظ ان اشیاء میں بعض اوقات ”غور وفکر“ کرتا ہے اور ان کے ذریعے بعض بھولی ہوئی اشیاء دوبارہ ”یاد“ کرلیتا ہے پھر انہیں بھی دیگر اشیاء کی طرح اپنے ذہن میں محفوظ کرلیتا ہے اسے ”حِسِّ مشترک“ کہتے ہیں۔
معلوم ہوا کہ باطنی حواسِ خمسہ بھی ہیں یعنی حِسِّ مشترک، خیال، غور وفکر، یاد اور حافظہ۔ اگراللہ عَزَّ وَجَلَّ یہ باطنی قوتیں پیدا نہ فرماتا تو دماغ بھی ان سے خالی ہوتا جیساکہ جسم کے ظاہری اعضاء یعنی ہاتھ پاؤں وغیرہ ان سے خالی ہیں۔ پس یہ قوتیں اور ان کا ٹھکانادونوں باطنی لشکر ہیں۔
دل کے لشکر کی اقسام عام لوگوں کو سمجھانے کے لئے مثالوں کا بیان کرنا ضروری ہے جس سے یہ بحث خاصی طویل ہوجائے گی جبکہ حقیقتاً اس طرح کی مباحث سے علم والوں کو فائدہ پہنچانا مقصود ہوتا ہے لیکن ہم عام لوگوں کے لئے انہیں مثالوں کے ذریعے بیان کریں گے تاکہ ان کے لئے سمجھنا کچھ آسان ہو۔
دوسری فصل: دل کے باطنی لشکر اوراس کی مثالیں
جان لیجئے کہ دو لشکر یعنی غصہ اور خواہش بعض اوقات دل کی بھرپور اطاعت کرتے ہیں جس سے دل کو اپنا مطلوب (یعنی قُربِ الٰہی) پانے میں مدد ملتی ہے اور راہِ آخرت میں ان دونوں کی طرف سے دل کو اچھی رفاقت حاصل ہوتی ہے۔ کبھی یہ دونوں انتہائی باغی اور سرکش ہوجاتے ہیں حتی کہ خود مالک بن جاتے اور دل کو غلام بنالیتے ہیں۔یہ صورت دل کے لئے ہلاکت اور ابدی سعادت تک پہنچانے والے سفر سے محرومی کا باعث