Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
209 - 1245
خوشی کی  مختلف حالتیں:
	ہر انسان کے لئے اس کی حالتوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے مجاہد ہ اور رِیاضت کا طریقہ مختلف ہے اور اس میں اصل یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو اس کے لئے اسبابِ دنیا میں سے فرحت وخوشی کا باعث ہے اسے چھوڑ دےجیسے کوئی مال پر خوش ہوتاہے،کوئی جاہ ومرتبے کی وجہ سے خوشی محسوس کرتاہے ،کوئی لوگوں کے درمیان اپنے وعظ کی مقبولیت کےسبب خوش ہوتاہے،کوئی قضا وحکمرانی کے سبب لوگوں کےدرمیان معزز ہونےکی وجہ سے خوش ہوتاہےاور کوئی درس وتدریس میں طلبا کی کثرت کے باعث خوشی  محسوس کرتاہے  تو ضروری  ہے کہ  جو اس کے لئے خوشی کا باعث ہےپہلے اسے ترک کرے۔ اگردیکھیں کہ ان چیزوں میں سے جس سے اسے منع کیا گیا اور اس سے یہ کہا گیا  کہ اس کے سبب تمہارا آخرت کا ثواب کم نہیں ہوگا تو وہ اس کی وجہ سےناراض  ہوتاہو اور دکھ محسوس کرتاہو تو سمجھ لو وہ شخص ان میں سے ہے جو دُنیاوی زندگی پرخوش ہوتے ہیں اور اس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں اور یہ چیز اس کے  حق میں باعث ہلاکت ہے۔پھر جب وہ خوشی کے اسباب کو ترک کردے تو لوگوں سے الگ ہوکرگوشہ نشینی اختیار کرلےاور اپنے دل کی حفاظت کرےیہاں تک کہ اسےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ذکر وفکر کے علاوہ کسی اور چیز میں مشغول نہ ہونے دےاور اپنے نفس میں جو خواہش اور وسوسے پیدا ہوں ان میں غورکرتارہےاور جیسے ہی ان میں سے کوئی ظاہر ہوفوراًاس کو اکھاڑ پھینکےکیونکہ ہر وسوسے  کا ایک سبب ہوتاہےاور وسوسے کا ازالہ سبب کو ختم کئے بغیرنہیں ہوسکتااور اسی طرح تمام عمر یہ عمل کرتارہےکہ نفس سے جہاد کرنے والے کی اِنتہاتو موت ہی ہے۔  
چوتھی فصل:			حُسْن اَخلاق کی عَلامات کا بیان
	یہ بات علم میں ہونی چاہئے  کہ ہر انسان اپنے عُیُوب سے بے خبر ہوتا ہےجب وہ تھوڑا سا مجاہَدہ کرتاہے جس کے باعث  وہ  بڑے بڑے گناہوں کو ترک کردیتاہے تو وہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتاہے کہ اس کا نفس مہذب اور حُسنِ اَخلاق کا پیکر ہوگیا ہے،اب اسے مجاہدے کی حاجت نہیں۔اسی وجہ سے ضروری ہوا کہ  حُسنِ اَخلاق کی  علامت کی وضاحت کی جائے۔