طرح بچے کو دودھ چھڑانا ایک مشکل امر ہوتاہے کہ وہ ایک گھڑی بھر بھی اس سے صبرنہیں کرتا اور دودھ چھڑانے پر بہت زیا دہ روتا چلاتاہے۔جو کھانا دودھ کے مقابلے میں اس کے سامنے رکھا جاتا ہے اس سے شدید نفرت کا اظہار کرتاہے لیکن جب آہستہ آہستہ اس سے دودھ کو بالکل روک دیا جاتا ہے تو اب اس پر بھوک کا غلبہ ہوتا ہے اور صبر کرنا مشکل ہوجاتا ہےتو وہ نہ چاہتےہوئے بھی بھوک کے سبب کھانا کھانا شروع کردیتا ہے پھر وہ اس کی طبیعت کا حصہ بن جاتاہے،اب ماں اسے اپنے دودھ کی طرف بلائےتو نہیں آتا اور اسے چھوڑ دیتاہے اورماں کے دودھ کے مقابلے میں کھانے سے مانوس ہوجاتاہے۔اسی طرح جانور شروع میں زِین،لگام اورسواری سے بھاگتاہے تو اس سے زبردستی یہ کام لیا جاتا ہے اور جس آزادی سے وہ مانوس ہوچکا ہوتا ہے اس سے اس کو چھڑانے کے لئے بیٹریاں وغیرہ ڈالی جاتی ہیں جس کے باعث وہ اس سے مانوس ہوجاتاہے اب جہاں بھی اسے کھڑا کر دیا جائے تو وہ بغیر کسی قید کے وہیں کھڑا رہتاہے جس طرح پرندوں اور جانوروں کو ادب سکھایا جاتا ہے اسی طرح نفس کی تادیب کا طریقہ ہے کہ دنیا کی لذتوں کی طرف دیکھنے،اِن سے اُنسیَّت حاصل کرنے اور اِن پر خوش ہونے بلکہ جو بھی چیز موت کے سبب اس سےجداہونے والی ہے ان سب سے اپنے نفس کو روکے اسی وجہ سے کہا گیا:اَحْبِبْ مَا اَحْبَـبْتَ فَاِنَّــکَ مُفَارِقُہٗ یعنی جس سے بھی چاہو محبت کرو آخر وہ تم سے جدا ہونے والا ہے۔
معلوم ہوا کہ انسان جس سے بھی محبت کرے بالآخر اسے اس سے جداتو ہوناہےاور اس کے فِراق کا غم سہنا ہے تو اسے چاہئے کہ اس سے محبت کرے جو اس سے کبھی جدا نہ ہواور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر ہے جو قبر میں بھی اس کے ساتھ جائے گااور اس سے کبھی جدا نہیں ہوگااور یہ سب کچھ چند دن کے صبر کرنے سے مکمل ہوجاتا ہے کیونکہ اُخروی زندگی کے مقابلے میں دُنیاوی زندگی انتہائی مختصر ہے۔
کوئی بھی صاحبِ عقل جب(تجارت کے لئے) سفر کا ارادہ کرتاہے یا کوئی ہنر سیکھنا چاہتاہے تو اسے اس کے حُصُول کے لئے مہینوں اِنتظار کرنا پڑتاہے پھرجب وہ ا سے حاصل کرلیتاہے تو سالوں یا زمانے تک اس سے فائدہ اٹھاتاہے اور ابدی زندگی کے مقابلے میں دُنیاوی زندگی کی مقدارتو ایک ماہ سے بھی کم ہے،لہٰذا صبراور مجاہدے سے کام لے۔پس جو لوگ صبح کے وقت اپنے رات کےطےکئے ہوئے سفر سے خوش ہوتے ہیں تو وہ رات سونے والوں کی ندامت سے بچ جاتے ہیں۔