Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
207 - 1245
دِلوں کااِمْتِحان:
	اَہْلِ قُلُوب میں سے جو لوگ صاحبِ عقل ہیں انہوں نے اپنے دلوں کا امتحان لیا۔دنیا پر خوشی کی صورت میں دلوں کو سخت ،سرکش اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور آخرت کے ذکر سے کم متاثر ہونے والاپایااور دنیا پر غم کی صورت میں نرم ، صاف اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ذکر کو قبو ل کرنے والا پایاتو انہوں نے جان لیا کہ نجات فرحت وسُرورسے دوری اور دائمی غم میں ہے۔اسی وجہ سے  انہوں نے دل کودنیاوی لذتوں اور خواہشات خواہ حلال ہوں یاحرام ان کا عادی بنانے سے دور رکھااورجب انہوں نے اس بات کو جان لیاکہ حلال میں حساب، حرام میں عقاب اور متشابہات میں عتاب ہے جوکہ ایک قسم کا عذاب ہےاورجس سے قیامت کے دن حساب میں پوچھ  گچھ کی گئی تو گویا اسے عذاب میں مبتلا کیا گیاتو انہوں نے اپنی جانوں کو اس عذاب سے بچایااور شہوات کی قیداورغلامی سے خَلاصی اختیار کرتے ہوئے دونوں جہاں کی آزادی اور بادشاہی حاصل کرلی اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ذکر اور اس کی اطاعت کی مشغولیت سے اُنْس حاصل کیا۔
نفس کی  تربیت کیسے کی جائے؟
	اَہْلِ قُلُوب نے اپنے نفسو ں کے ساتھ وہ معاملہ کیا جو باز کے ساتھ کیا جاتاہے۔ جب اسے ادب سکھانے اور اس سے وحشت دور کرنے کا ارادہ ہوتاہے  تو اوّلا ً اسے ایک اندھیرے کمرے میں قید کردیا جاتا اور اس کی آنکھیں بند کردی جاتی ہیں تاکہ وہ فضامیں اڑنا چھوڑدے اور اڑنے کے متعلق اپنی فطرت کو بھول جائے پھر اسے گوشت کھلا کر اس میں نرمی پیدا کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے مالک سےیوں  مانو س ہوجائےکہ اس کے بلانے پر حاضر ہوجائے اور جہاں اس کی آواز سنے اس کی طر ف لوٹ آئے۔ نفس کی مثال بھی اسی  طرح ہے کہ وہ اپنے رب کے ذکر سے مانوس نہیں ہوتاجب تک پہلے اس کی بُری  عادت کو خلوت اور گوشہ نشینی سے دور نہ کیا جائے کہ وہ اس کے ذریعے مانو س چیزوں سے اپنے کان اور آنکھ کی حفاظت کرےپھر دوسرے مرحلے میں اسے خلوت وگوشہ نشینی میں ثنا،ذکر اور دعا کا عادی بنایا جائےتاکہ اس پر دنیااوردیگرتمام  شہوات کی اُنسیَّت کے مقابلے میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ذکر کی اُنسیَّت غالب ہو۔شروع میں یہ کام مرید پر مشکل ہوتاہے پھر آخر میں وہ اس سے لذت محسوس کرتاہے جس