Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
206 - 1245
	جب آنکھ کواِس چیزکاعادی بنایاجائے کہ وہ ہر اچھی چیز کو دیکھے تو وہ حرام چیزوں کو دیکھنے سے بھی محفوظ نہیں رہتی اس کے علاوہ باقی دیگر چیزوں کا بھی یہی معاملہ ہے کیونکہ حلال و حرام دونوں کی خواہشات کی بنیاد ایک ہی ہے۔
دل کی موت:
 	انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ حرام خواہشات سے خود کوروکےاور مُباح خواہشات  میں بقدرِ ضرورت سے آگے نہ بڑھے وگرنہ وہ اس پر غالب آجائیں گی تو یہ مباح چیزوں کی آفات میں سے ایک آفت ہےاس کے علاوہ اور بہت سی آفات ہیں جواس سے بھی بڑھ کر ہیں وہ یہ کہ نفس دنیاوی لذتوں سے خوش ہوتا،اس کی طرف مائل ہوتا،اس سے مطمئن ہوتا اور اتراتا ہے حتّٰی کہ  وہ اس نشے والے شخص کی طرح ہوجاتا ہے جو اپنے نشہ سے افاقہ  میں نہیں آتااور یہ دنیاوی خوشی زہر قاتل ہے جو رگوں میں سرایت کرجاتی اور دل سے خوف وغم کو نکال دیتی ہے جس کے باعث نہ موت کی یاد رہتی ہے اور نہ قیامت کی ہولناکی کا منظر سامنے رہتاہےاور یہی چیزدل کی موت ہے ۔
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا ارشاد ہے:
وَ رَضُوۡا بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوۡا بِہَا (پ۱۱،يونس:۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اور دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے اور اس پر مطمئن ہوگئے۔
	ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا مَتٰعٌ ﴿٪۲۶﴾ (پ۱۳،الرعد:۲۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اوردنیا کی زندگی آخرت کے مقابل نہیں مگر کچھ دن برت لینا۔
	ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے:
اِعْلَمُوۡۤا اَنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ وَّ زِیۡنَۃٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیۡنَکُمْ وَ تَکَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ؕ(پ۲۷،الحدید:۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان: جان لوکہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کوداورآرائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنااور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا ۔
	ہم بارگاہِ الٰہی میں دعاکرتے ہیں کہ وہ ہمیں ایسی مذموم باتوں سے محفوظ رکھے۔