Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
205 - 1245
حکایت:انا ر کی خواہش
	حضرت سیِّدُنا ابراہیم خوَّاصعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاقفرماتے ہیں:ایک مرتبہ میں جَبَلِ لُکام)نامی پہاڑ)پرتھا میں نے اناردیکھا تو دل میں اس کی خواہش پیدا ہوئی، میں نے ایک انا ر لے کر توڑا تو وہ کھٹانکلامیں اسے چھوڑکر  چلاگیا پھر میں نے ایک شخص کوزمین پر لیٹے دیکھا اس پر بِھڑیں(ایک قسم کا زرد،پردار کیڑا جس کے ڈنک میں زہر ہوتا ہے) جمع تھیں۔میں نے اسے سلام کیا تو اس نے جواباً کہا:وَعَلَیْکَ السَّلَام یَا اِبْرَاھِیْم یعنی اے ابراہیم!تم پر بھی سلام ہو۔میں نے کہا :آپ نے مجھے کیسے پہچانا؟اس نے کہا:جواللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو پہچان لیتا ہے اس پر کوئی چیز مخفی نہیں رہتی۔میں نے کہا :جباللہ عَزَّ  وَجَلَّسے آپ کا ایسا تعلق ہے تو آپ اس کی بارگاہ میں دعا کیوں نہیں کرتے کہ وہ آپ سے ان بِھڑوں کو دور کردے۔ اس نےکہا:آپ کابھیاللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے تعلق ہے پھر آپ نےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے یہ دعا کیوں نہ کی کہ وہ آپ سے انا ر کی خواہش دور کردے۔بھڑوں سے پہنچنے والی تکلیف تو دُنیاوی ہے لیکن انار کی خواہش سے پہنچنے والا رنج اُخروی ہے۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم خوّاص عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاق فرماتےہیں : میں اسے چھوڑ کر آگے چلا گیا۔
40سال سے نفس کی بات  نہیں مانی:
	حضرت سیِّدُنا سَری سَقَطِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:40سال سے میرا نفس مطالبہ کررہا ہے کہ میں روٹی کو کھجور کے شیرے میں تر کرکے کھاؤں لیکن میں نے اس کی بات نہیں مانی۔
فائدہ:
	معلوم ہوا کہ راہِ آخرت کے مسافر کےلئے دل کی اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں ہوتی جب تک آدمی اپنے نفس کو مباح چیزوں کی لذت سے نہ روکے کیونکہ جب نفس کو بعض مباح چیزوں سے روکا نہ جائےتو وہ ممنوعات میں پڑ جاتاہےجیسے جو شخص اپنی زبان کو غیبت اور فضول کلام سے روکنا چاہتا ہو تو اس پرلازم ہےکہ وہذِکْرُاللہ اور دین کی باتوں کے علاوہ خاموشی اختیارکئے رکھےیہاں تک کہ اس سے(فضول) گفتگو کی خواہش ختم ہوجائے اور وہ صرف حق بات ہی کرےاب اس کی خاموشی بھی عباد ت ہوگی اور گفتگو بھی۔