Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
204 - 1245
قلب کی مشغولیت کے اعتبار سے لوگوں کے مراتب:
	قلب کی مشغولیت کے اعتبار سے لوگوں کے چار مراتب ہیں :
٭…پہلامرتبہ:جس کاقلب اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے ذکر میں مشغول ہواور معاشی ضروریات کے علاوہ دنیا کی طرف متوجہ نہ ہوایسا شخص صدیقین میں سے ہے اور یہ مرتبہ طویل ریاضت اور مدتوں خواہشات سے صبر کرنے سے حاصل ہوتاہے۔
٭…دوسرامرتبہ:جس کا قلب دنیا میں مشغول ہو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر کے لئے اس میں کوئی گنجائش نہ ہو سوائے زبانی ذکر کے یعنی  وہ  صرف زبان سے ذکر کرے دل میں اس کی یاد نہ ہو۔ایسا شخص ہلاک ہونے والوں میں سے ہے۔
٭…تیسرامرتبہ:جس کا قلب دین ودنیا دونوں میں مشغول ہولیکن قلب پر دین کا غلبہ ہوایسا شخص جہنَّم میں تو جائے گالیکن جس قدر اس کے دل پر ذِکرُاللہ کا غلبہ ہوگااسی قدر وہ جلد ہی عذاب سے نجات پاجائےگا۔ 
٭…چوتھامرتبہ:جس کا قلب دین ودنیا دونوں میں مشغول ہولیکن قلب پر دنیا غالب ہوایسا شخص طویل مدت تک جہنَّم میں رہے  گالیکن بالآخر جہنم سے نجات پائے گا کیوں کہ اس کے قلب میں ذِکرُاللہ کی قوت ہےاور وہ دل سے ذِکرُاللہ بجا لاتاتھا اگرچہ اس پر دنیا غالب تھی۔
	اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَـعُوْذُبِکَ مِنْ خِزْ یِکَ فَاِنَّــکَ اَنْتَ الْمُعَاذیعنی اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!ہم ذِلَّت ورُسوائی سے تیر ی پناہ مانگتے ہیں بے شک تجھ سے  ہی پناہ مانگی جاتی ہے۔
ایک وسوسہ اور اس کا علاج:
	بسا اوقات یہ وسوسہ آتا ہے کہ مباح چیز سے لذت اٹھانا  تومُباح  ہے پھر یہ کس طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دوری کا سبب بنے گا؟علاج:یہ ایک خیالِ فاسد ہے کیونکہ دنیا کی محبت تو ہر گناہ کی جڑ اور نیکیوں کی بربادی کا سبَب ہےاور وہ مباح جو حاجت سے زائد ہے وہ بھی دنیا میں شامل جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دور ی کاسبَب ہے۔یہ بات دنیا کی مَذمَّت کے بیان میں آئے گی۔