جب تو خاموش رہنا چاہے۔اس نے پھر پوچھا: خاموش کب رہوں؟فرمایا:جب گفتگو کرنے کا دل چاہے۔
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں : جوجنت کا شوق رکھتاہے وہ دُنیوی خواہشات سے دور رہے۔
حضرت سیِّدُنا مالک بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکو بازار سے گزرتےہوئے اگر کوئی چیز پسند آتی تو اپنے نفس سے کہتے: صبرکر بخدا!میں تجھے اپنے نزدیک بڑا سمجھ کر ہی منع کرتاہوں۔
اُخروی سعادت کا حُصُول:
علُمَا اورحکَما کا اس بات پر اِ تِّفاق ہےکہ اُخروی سعادت کا حصول نَفْس کو خواہشات سے روک کر اور شہوات کی مخالفت کرتے ہوئے ہوتاہے،لہٰذا اس امر پر یقین کرناضروری ہے۔ کون سی خواہشات کو چھوڑا جائے اور کون سی کو نہ چھوڑا جائےاسے آپ ہماری گزشتہ گفتگو سے جان سکتے ہیں۔
رِیاضت کا حاصل:
رِیاضت کا حاصل یہ ہے کہ نفس اس چیز سے نفع حاصل نہ کرے جو قبر میں اس کے ساتھ نہیں جاتی، البتہ بقدرِضرورت نفع حاصل کرسکتاہے جیسے کھانےپینے،نکاح کرنے،لباس ،مکان اور اس کے علاوہ جو چیزیں اس کے لئے ضروری ہوں بقدرِحاجت وضرورت ان سے فائدہ حاصل کرنے میں مُضایَقہ نہیں۔اگر نفس اس چیز سے نفع حاصل کرےجو قبر میں نہیں جاتی تو اس سے اُلفت رکھتے ہوئے مانوس ہوجائےگاجب اس کا انتقال ہوجائے گا تو اس کے سبب وہ دنیا میں لوٹنے کی تمنا کرے گااور دنیا کی طرف لوٹنے کی تمنا وہی کرے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔دنیا کی محبت سے چھٹکار ااسی صورت میں ممکن ہے جب دل اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت،اس کی محبت،اس کے بارے میں تفکراور دنیا سے تعلق توڑکر اسی کا ہوکراسی میں مشغول ہواور اس پر قدرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی طرف سے مل سکتی ہے۔لہٰذادنیا سے اسی قدرپر اِکتفاکرے جو اس کے لئے ذکر وفکر سے مانع نہ ہو،اگر وہ حقیقتاًاس پر قادر نہ ہو تو کم ازکم اس سے قریب تو رہے۔