لگیں: پاک ہے وہ ذات جس نے بادشاہوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے غلام بنادیااورفساد کرنے والوں کی یہی سزاہے اور صبر و تقوٰی نے غلاموں کو بادشاہ بنادیا۔یہ سن کرحضرت سیِّدُنا یوسف عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
اِنَّہٗ مَنۡ یَّـتَّقِ وَیَصْبِرْ فَاِنَّ اللہَ لَایُضِیۡعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿۹۰﴾(پ۱۳،يوسف:۹۰)
ترجمۂ کنز الایمان: بےشک جو پرہیزگاری اور صبر کرے تو اللہ نیکوں کا نیگ(اجر) ضائع نہیں کرتا ۔
حکایت:نفس کی بیماری کا علاج کیسےممکن ہو؟
سیِّدُالطائفہ حضرت سیِّدُناجنیدبغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:ایک مرتبہ میں رات میں بیدار ہوکراپنے وظیفہ میں مشغول ہوگیا لیکن میں نے اپنے وظیفے میں وہ حَلاوَت(مٹھاس)نہ پائی جو پایا کرتاتھا۔ چنانچہ میں نے سونے کا ارادہ کیا مگر سونہ سکا اور بیٹھناچاہا لیکن بیٹھ بھی نہ سکا تو باہر نکل گیا ،کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص کمبل میں لپٹا ہوا راستے میں بیٹھا ہےجب اس نے میری آہٹ سنی توکہا: اے ابو القاسم ! ذرا میرے پاس تشریف لائیے۔ میں نے کہا:سیّدی!آپ سے ملاقات کا وقت توطے نہیں تھا(پھر یہ ملاقات کیسی)؟ کہا: ملاقات تو پہلے ہی سے طے تھی کہ جب میں نےاللہ عَزَّ وَجَلَّسے سوال کیا کہ وہ آپ کے دل کو میرے لئے حرکت دے۔میں نے کہا:یہ تواللہ عَزَّ وَجَلَّنے کردیا اب آپ کو کیا حاجت ہے؟ کہا :نفس کی بیماری کا علاج کیسے ممکن ہے؟میں نے کہا:جب تم نفس کی خواہش میں اس کی مخالفت کرو۔یہ سن کر وہ اپنے نفس سے کہنےلگا:میں نے تجھے سات مرتبہ یہی جواب دیا لیکن تونے انکار کردیا اور کہا: میں تو جنیدبغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی سےہی اس کا جواب سنوں گا۔یہ کہہ کروہ شخص چلاگیا اور میں اسے پہچان نہ سکا۔
حضرت سیِّدُنایزید رَقاشیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِیفرمایاکرتے :مجھے دنیامیں ٹھنڈا پانی نہ دوکہ کہیں میں اس کے سبب آخرت میں اس سے محروم نہ ہوجاؤں۔
کب گفتگو کروں؟
ایک شخص نےحضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز سے پوچھا : میں گفتگو کب کروں؟ فرمایا: