جب نفس اس حالت کو پہنچ جائے گا تو اس وقت وہ پاک وصاف،نورانی ،ہلکاپھلکااور روحانی ہوجائے گا پھر وہ نیکیوں کے میدان میں دوڑے گااور عبادت کے راستوں میں اس طرح چلے گا جس طرح تیزرفتار گھوڑا میدان میں بھاگتاہےاوروہ ایسا ہوجائے گا جیسے بادشاہ باغ میں سیر کرتاہے۔
انسان کے تین دشمن:
حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن مُعاذرَازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:انسان کے تین دشمن ہیں: (۱)…دنیا (۲)…شیطان اور(۳) نفس،لہٰذا دنیاسےکنارہ کشی اختیارکرکے،شیطان کی مخالفت کرکےاورنفس کی خواہشات کو ترک کرکے اس سےمحفوظ رہے۔
ایک دانا کا قول:
ایک دانا(عقل مند)کا قول ہے کہ جس پر اس کا نفس غالب ہوجاتاہے تو وہ نفسانی شہوات کے کنویں میں قیداور نفسانی خواہشات کے قید خانے میں مَحْصُور ہوجاتاہے،اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ مغلوب ہوچکا ہوتاہے، اسے بیڑیاں پہنادی جاتی ہیں،اس کی لگام نفس کے ہاتھوں میں ہوتی ہےاور وہ جس طرح چاہتاہے اسے لئے پھرتاہےاورجب یہ حالت ہوجاتی ہے تو اس کا دل فوائد حاصل کرنے سے رُک جاتاہے۔
حضرت سیِّدُنا جعفر بن حمیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدفرماتے ہیں: عُلَما اور حکَماکااس بات پر اِ تِّفاق ہے کہ اُخروی نعمتوں کا حُصُول دُنیاوی نعمتوں کو چھوڑےبغیر نہیں ہوتا۔
حضرت سیِّدُناابویحییٰ وَرّاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاقفرماتے ہیں:جس نے اپنے اعضاء کو خواہشات کےذریعے راضی کیا اس نے اپنے دل میں ندامتوں کے درخت لگائے۔
حضرت سیِّدُنا وُہَیب بن وَردرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے منقول ہے کہ ایک روٹی سے جو کچھ زائد ہے وہ خواہش ہےاور جو خواہشات سے محبت رکھتاہے وہ ذِلَّت و رُسوائی کی تیاری کرلے۔
حکایت:صبر اور تقوٰی نے غلاموں کو بادشاہ بنادیا
منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا یوسفعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممصرکے بادشاہ بننے کےبعدایک مرتبہ 12 ہزار کے لشکر کے ساتھ پیدل جارہے تھے کہ حضرت سیِّدَتُنا زُلیخارَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاایک ٹیلے پر بیٹھی کہنے