اے نفس !کیا اب بھی تجھے شرم نہیں آتی:
حضرت سیِّدُنا ابوالعباس مَوْ صِلیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے نفس کو مخاطب کرکے فرمایا:”اے نفس !نہ تُو بادشاہوں کے بیٹوں کی طرح دنیا میں نعمتوں سے لُطْف اندوز ہوتاہےاور نہ آخرت کی طلب میں عبادت گزاروں کی طرح کوشش کرتاہے گویاتُونے تَومجھےجنت ودوزخ کے درمیان کھڑا کردیا ہے۔اے نفس !کیا اب بھی تجھے شرم نہیں آتی۔ “
حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:نفس کو سَرکش جانور سے بھی بڑھ کر مضبوط لگام کی حاجت ہوتی ہے۔
رِیاضت کی چار صورتیں:
حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن مُعاذرَازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:مجاہَدہ ورِیاضت کی تلواروں سےنفس کے ساتھ جہاد کرواورریاضت کی چار صورتیں ہیں:(۱)…تھوڑاکھانا۔(۲)…کم سونا۔(۳)…بقدرِ ضرورت کلام کرنااور(۴)…لوگوں کی طرف سے تکلیف برداشت کرنا۔
فوائد:
تھوڑا کھانے سے شہوت ختم ہوگی،تھوڑا سونے سےارادے میں پاکیزگی آئےگی،بقدرِ ضرورت کلام کرنے سےآفات سے سلامتی رہے گی اور لوگوں کی طرف سے تکلیف برداشت کرنے پر بلند مرتبے تک رسائی ہوگی۔انسان کے لئے ظلم کے وقت بُردباری اور تکلیف کے وقت صبر سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ۔
نفس کیسے ستھرا ہو؟
جب نفس میں شہوات اور گناہوں کے ارادے کی حرکت ہو،فضول کلام کی مٹھاس جوش مارےتو تھوڑا کھانے کی تلوار کو تہجد پڑھنے اور کم سونے کی نیام سے باہر لائےاور نفس پر خاموشی اور کم گفتگو کی ضرب لگائے حتّٰی کہ وہ ظلم اور انتقام سے باز آجائےیوں وہ تمام لوگوں میں سے نفس کے وبال سےامن میں آجائے گا نیز نفس کوخواہشات کی سیاہی سےپاک وصاف کرےاس طرح وہ اس کی ہلاکت خیز آفات سے نجات پاجائے گا۔