Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
20 - 1245
 یعنی ہاتھ اور غذا حاصل کرنے والے دیگر اعضاء۔
	معلوم ہوا کہ دل میں خواہشات پیدا کی گئی ہیں اور ان کی تکمیل کے لئے اعضاء ہیں۔
	ہلا کت میں ڈالنے والی اشیاء سے بچنے کے لئے بھی دو لشکروں  کی حاجت ہے:(۱)…با طنی یعنی غصہ جس کے ذریعے مہلکا ت سے بچا جائے اور دشمن سے انتقام لیا جائے(۲)…ظاہری یعنی ہاتھ، پاؤں جن کے ذریعے غصے کا اظہار کیا جائے۔ اس دوسرے لشکر کا تعلق خارجی امور سے ہے،لہٰذا جسم کے اعضاء اسلحہ کی مانند ہیں۔
	پھر یہ کہ جسے بھی غذا کی حاجت ہو اس کے لئے یہ لشکر یعنی خواہش نفس اور اعضاء اس وقت تک قابل نفع نہیں جب تک اسے غذا کی پہچان نہ ہو۔ پس غذا کی پہچان کے لئے مزید دو لشکروں کی حاجت ہے:(۱)… باطنی یعنی دیکھنے، سننے، سونگھنے، چھونے اور چکھنے کی قوت(۲)…ظاہری یعنی آنکھ، کان، ناک اور دیگر اعضاء۔
	ان کی حاجت اور ان کی حکمتیں اس قدر ہیں کہ تفصیل سے بیان کی جائیں تو کئی جلدیں ان کا احاطہ نہیں کرسکتیں،البتہ! ہم نے ”شکر کے بیان“ میں اس کی چند آسان حکمتیں بیان کی ہیں اسی پر اکتفا کرنا مناسب ہے۔
دل کے باطنی لشکروں کی اقسام:
	دل کے تمام باطنی لشکر تین قسموں میں منحصر ہیں:(۱)…ابھارنے اور رغبت دلانے والی قوت، چاہے وہ حُصولِ نَفْع کی طرف رغبت دلائے جیسے خواہش یا نُقصان دہ شے کو دور کرنے پر ابھارے جیسے غصہ۔ اسے ”ارادہ“ کہتے ہیں۔(۲)…نفع حاصل کرنے یا نقصان دہ شے کو دور کرنے کے لئے اعضاء کو حرکت دینے والی قوت۔ اسے ”قدرت“ کہتے ہیں۔ یہ قوت بالعموم تمام اعضاء اور خصوصًا پٹھوں اور جوڑوں میں ہوتی ہے۔ (۳)…اشیاء کی پہچان کرنے والی قوت مثلاً دیکھنے، سننے، سونگھنے، چکھنے اور چھونے کی قوت۔ یہ مخصوص اعضاء میں پائی جاتی ہے، اسے ”علم و ادراک“ کہتے ہیں۔
	ہر باطنی لشکر کے ساتھ ظاہری لشکر بھی ہوتا ہے۔ چربی، گوشت، پٹھے، خون اور ہڈی سے مرکب اعضاء ان باطنی لشکروں کے لئے بطور آلہ بنائے گئے ہیں مثلاً پکڑنے کی قوت انگلیوں میں رکھی گئی ہے اور دیکھنے کی قوت آنکھوں میں رکھی گئی ہے، یونہی تمام اعضاء کا نظام ہے۔