Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
199 - 1245
 پردے میں رہتی ہے ۔
	حضرت سیِّدُنا  عیسیٰرُوْحُاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ارشاد فرمایا:اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جو وعدہ ٔغیب (یعنی جنّت)کے لئے جسے دیکھا نہیں موجودہ خواہِش  کو چھوڑدے۔
نفس سے جہاد:
	صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا ایک لشکرجہاد سے واپس آیا تو سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے ارشادفرمایا:مَرْحَبًـا بِکُمْ قَدِمْتُمْ مِنَ الْجِھَادِ الْاَصْغَرِ اِلَی الْجِھَادِ الْاَکْبَریعنی خوش آمدید! تم جہاد ِاصغر سے جہادِاکبر کی طرف آئے ہو۔عرض کی گئی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!وَمَا الْجِھَادُ الْاَکْبَریعنی جہاد اکبر کیا ہے؟ارشاد فرمایا:جِھَادُ النَّفْس یعنی نفس سے جہاد کرنا۔(1)
	اسی طرح  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:اَلْمُجَاھِدُمَنْ جَاھَدَ نَفْسَہٗ فِیْ طَاعَةِ اﷲِیعنی مجاہد وہ ہے جواللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اطاعت میں نفس سے جہاد کرتا ہے۔(2)
نفس قیامت کے دن جھگڑے گا:
	حُضُورنبیّ رحمت،شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:اپنے نفس کی اَذِیَّت کو اپنے آپ سے دور رکھو اور خالِقِ حقیقی کی نافرمانی میں نفس کی خواہِش کی اتباع نہ کروکہ یہ نفس تو تم سے قیامت کے دن جھگڑے گااور تمہارے جسم کا ایک حصہ دوسرے پرلعنت کرےگامگر یہ کہ جسےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ بخش دے اور پردہ پوشی فرمائے۔
سخت تر ین عِلاج:
	حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:نفس کے علاج سے سخت ترین علاج میں نے کسی چیز کا نہیں دیکھاکبھی وہ میرے لئے مفید ہوتاہے اور کبھی نقصان کا باعث ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزھد الکبیر للبیھقی، ص ۱۶۵، حدیث : ۳۷۳  بتغیرقلیل
2…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند فضالة بن عبیدالانصاری،۹/ ۲۴۹، حدیث : ۲۴۰۱۳