Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
198 - 1245
	جو اس بات کی تصدیق کرے کہ خواہشات کی مخالفت ہیاللہ عَزَّ  وَجَلَّ تک پہنچنے کا ذریعہ ہے لیکن اس کے سبب کسی اورراز پر مطلع نہ ہوتو وہ صرف اہل ایمان سے ہے اور اگر کوئی اس کے سبب کسی اورراز پر مطلع ہوجائے تو اس  کاشمار اہل علم  سےہوتا ہے اوران دونوں  سےاللہ عَزَّ  وَجَلَّنے بھلائی کا  وعدہ فرمایا۔اس کے متعلق قرآن وحدیث کی نُصُوص اور عُلَمائے کِرام کے بے شمار اَقوال ہیں۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:
وَ نَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی ﴿ۙ۴۰﴾ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاۡوٰی ﴿ؕ۴۱﴾ (پ۳۰،النٰزعٰت:۴۱،۴۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور نفس کو خواہش سے روکاتو بے شک جنّت ہی ٹھکانا ہے۔
ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ امْتَحَنَ اللہُ قُلُوۡبَہُمْ لِلتَّقْوٰیؕ(پ۲۶،الحجرات:۳)
ترجمۂ کنز الایمان: وہ ہیں جن کا دل اللہنے پرہیزگاری کے لئے پرکھ لیا ہے۔
مومن پانچ سختیوں کے درمیان:
	رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:اَلْمُوْمِنُ بَیْنَ خَمْسِ شَدَآئِدَ مُوْمِنٍ یَحْسُدُہٗ وَمُنَافِقٍ یُبْغِضُہٗ وَکَافِرٍ یُقَاتِلُہٗ وَشَیْطَانٍ یُضِلُّہٗ وَنَفْسٍ تُنَازِعُہٗیعنی مومن پانچ سختیوں کے درمیان ہوتاہے مومن اس سےحسد کرتا ہے، منافق اس سے بغض رکھتا ہے، کافر اس سےجنگ کرتا ہے ،شیطان اسے گمراہ کرتا ہے اور نفس  اس سےجھگڑتا ہے۔(1) 
فائدہ:
	اس حدیثِ پاک میں  یہ بیان کیا گیا ہے کہ نفس انسا ن کا جھگڑالو دشمن ہے،لہٰذا اس سے مجاہدہ ورِیاضت  ضروری ہے۔
وحیٔ داؤد اور فرمانِ عیسٰی:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّنےحضرت سیِّدُناداؤدعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرف وحی فرمائی کہ اپنے اَصحاب کو خواہشات کے اپنانےسے ڈرائیے اور بچائیے کیونکہ جوخواہشات کے پیچھے پڑتے ہیں ان کی دانائی مجھ سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کنزالعمال ،کتاب الایمان والاسلام ، الباب الاول فی تعریفھما حقیقة...الخ ،۱/ ۹۴، حدیث: ۸۰۵