Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
197 - 1245
٭…چوتھا طریقہ:لوگوں کےساتھ مل جل کر رہےان میں جو ناپسندیدہ بات دیکھےاسے اپنے نفس میں گمان کرےکیونکہ ایک مومن دوسرے مومن کے لئے آئینہ ہوتاہےجس میں وہ دوسروں کے عیوب کے ذریعے اپنے عیب دیکھتاہےاور یہ بات جان لینی چاہئے کہ طبیعتیں خواہش کی پیروی میں قریب قریب ہوتی ہیں جو بات ایک میں ہوگی وہ دوسرے میں بھی ہوگی اب یاتو وہ بڑھ کر ہوگی یا پھر کم،لہٰذا اپنے نفس کا خیال رکھتے ہوئے جسے دوسروں میں قابلِ مذمت دیکھے اس سے نفس کو پاک کرے۔تادیب کا یہ طریقہ کافی ہے،اگر تمام لوگ اسی طرح دوسروں کو دیکھ کر اُن میں جو ناپسندیدہ باتیں ہوں اُن کواپنے سے دور کریں تو انہیں کسی ادب سکھانے والے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
	حضرت سیِّدُنا عیسٰی روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے پوچھا گیا:آپ کو ادب کس نے سکھایا؟ ارشاد فرمایا:’’مجھے کسی نے ادب نہیں سکھایا،مجھے جاہل کی جہالت بُری معلوم ہوئی تو میں نے خود کو اس سے بچایا۔‘‘
	آخر کے یہ تین طریقےاس کے لئے ہیں جو ایسے مرشد و شیخ کو نہ پائے جو عارف،ذہین ،لوگوں کے عُیُوب سے باخبر،شفیق،دینی نصیحت کرنے والا،اپنے نفس کی تربیت سے فارغ اور لوگوں کا خیر خواہ ہوکر ان کی تربیت میں مشغول  ہونےوالاہواور جو ایسے کو پائے تو اس نے طبیب کو پالیااب وہ اس کے ساتھ وابستہ رہےکہ وہ اسے مرض سے خَلاصی عطاکرے گااور جس ہلاکت میں وہ پڑا ہے اس سے نجات دلائے گا۔
تیسری فصل:			دل کے اَمراض کا علاج
	ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اگر اس میں غور و فکر کرو توتمہاری قلبی بصارت کھل جائے گی اور دل کی خرابیاں اور بیماریاں نیز ان کا علاج علم ویقین کے نور کے ساتھ واضح ہوجائے گااگر تم اس سے عاجز ہو(یعنی غوروفکر نہیں کرسکتے)توضروری ہے کہ  جو پیروی  کا اہل ہےایمان و تصدیق میں اس کی پیروی  کرو۔
	ایمان کا الگ درجہ ہے جبکہ علم کا الگ مرتبہ ہےعلم اگرچہ ایمان کے بعد حاصل ہوتاہے لیکن علم ایمان پر ایک زائدچیزہےجیسےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا ارشادہے:
یَرْفَعِ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمْ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ؕ (پ۲۸،المجادلة:۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہتمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا  درجے بلند فرمائے گا۔