Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
196 - 1245
دین دار لوگوں کی یہ خواہش ہوا کرتی تھی کہ وہ دوسروں کے بتانے سے اپنے عیوب پر مطلع ہوں لیکن اب ایسا دور آگیا کہ ہمیں نصیحت کرنے اور ہمارے عیبوں پر مطلع کرنے والا ہمیں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہوتا ہے اور یہ بات ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔
ڈسنے والے سانپ اور بچھو:
 	بُرےاَخلاق ڈسنے والے سانپ اور بچھو ہیں،اگر کوئی ہمیں یہ بتائے کہ تمہارے کپڑوں کے نیچے بچھو ہے توہم خوش ہوکر اس کے احسان مند ہوجاتے ہیں اوربچھو کو اپنے سے دور کرکےماردیتے ہیں حالانکہ بچھوکا زہرصرف بدن تک محدودہے اور اس کی تکلیف ایک یا دو دن رہتی ہے جبکہ بُرے اخلاق کےزہر کا اثر باطِن پر ہوتاہے اور اس بات کا خوف ہوتاہے کہ مرنے کے بعد ہمیشہ یا مدتوں اس کا اثر باقی رہے۔
	اب حالت یہ ہے کہ کوئی ہمیں ہمارے عُیُوب پر مُطَّلَع کرے تو ہمیں یہ سن کر خوشی نہیں ہوتی اور نہ ہی ہم اس کے کہنے پر ان عیوب کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ ہم نصیحت کرنے والے کو تنقیدکا نشانہ بناتے ہیں اور اسے کہتے ہیں کہ تم میں بھی تو فلاں فلاں عیب ہیں ،اس طرح ہم اس  کی بات سے نصیحت حاصل کرنے کے بجائےاس کی دشمنی مول لیتے ہیں۔ اس عیب جوئی کی وجہ دل کی سختی ہے جس کا نتیجہ گناہوں کی کثرت  کی صورت میں سامنے آتاہےاور ان سب کی اصل ایمان کی کمزوری ہے ۔ ہم بارگاہِ الٰہی میں دعا گو ہیں کہ وہ اپنے فضل و کرم سے ہمیں رُشدو ہدایت عطا فرمائے،ہمیں ہمارے عیوب سے باخبر اور ان کے علاج میں مشغول رکھے اورہمیں ان لوگوں کا شکریہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو ہمیں ہماری برائیوں پر مطلع کریں۔
٭…تیسرا طریقہ:اپنے دشمنوں کی زبان سے اپنے عُیُوب پر مُطَّلَع ہوکہ وہ عیوب کی تلاش میں لگے رہتے ہیں۔شایداسی وجہ سے انسان اکثرتعریف کرنےوالےچاپلوس دوست جو اس کی خوشامد میں لگارہتاہے اور اس کے عیوب کو چھپاکر رکھتاہے اِس کے مقابلے میں عیب نکالنے والے دشمن سے زیادہ نفع اٹھاتاہےمگر انسان فطری طورپر دشمن کوجھوٹا قرار دیتااور اس کی بات کو حسد پر محمول کرتاہےلیکن صاحبِ بصیرت شخص دشمنوں کی باتوں سے ضرور فائدہ اٹھاتاہے کیونکہ برائیاں لازماًان کی زبان پرآجاتی ہیں (جنہیں معلوم کرکے وہ خود سے ان برائیوں کو دور کرلیتاہے)۔