مجھ میں کون سی بات آپ کو ناپسندیدہ معلوم ہوتی ہے ؟
ایک مرتبہ حضرت سیِّدُناسلمان فارسیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں حاضر ہوئے توآپ نے ان سے پوچھا:اے سلمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ!مجھ میں کون سی بات آپ کو ناپسندیدہ معلوم ہوتی ہے؟ حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بتانے سے معذرت کی تو امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےبااصرار پوچھاجس پر انہوں نے عرض کی:’’مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ ایک دستر خوان پر دوکھانے جمع کرتے ہیں اور آپ کے پاس کپڑے کے دوجوڑے ہیں ایک دن میں پہنتے ہیں اور دوسرا رات میں زیب تن کرتے ہیں۔‘‘امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’اس کے علاوہ کوئی اوربات؟‘‘عرض کی:’’نہیں۔‘‘اس پرآپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:’’ان دو باتوں کے متعلق آپ تسلی رکھئے۔
سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہکی عاجزی:
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت سیِّدُناحُذَیفَہ بن یَمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سےپوچھاکرتےتھے کہ آپ منافقین کے متعلق سرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےرازداں ہیں کیا مجھ میں نِفاق کی کوئی علامت پاتےہیں؟ امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجَلِیْلُ الْقَدر شان اوربُلندمرتبہ کے مالک ہونے کے باوجود اپنے نفس کے متعلق اس طرح عاجزی کا اظہارکیا کرتے۔
پس جوبھی عقل میں تیز اور بلند مرتبے کا حامل ہوگاوہ خود پسندی کم اور اپنے نفس کے متعلق عاجزی زیادہ کرےگالیکن اس دور میں ایسے دوستوں کا ملنا دشوار ہے جو چاپلوسی چھوڑ کر عیب کے متعلق خبر دیں اور حسد ترک کرکے جتنی بات ضروری ہے اُتنی ہی بتائیں مگر آج کل دوستوں میں حسد اور مطلب پرستی عام ہے کہ یاتو جو عیب نہیں ہے اسے عیب قرار دیں گےیا پھر چاپلوسی کرتے ہوئے بعض عُیُوب سے چشم پوشی کریں گے۔
یہی وجہ تھی کہ حضرت سیِّدُناداود طائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےلوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی، ان سے کہاگیا کہ آپ نے لوگوں سے کنارہ کشی کیوں اختیار کی؟ توفرمایا:”میں ایسےلوگوں سے کنارہ کشی کیوں اختیار نہ کروں جو میرے عُیُوب کو چھپاتے ہیں۔“