حقیقت پر قدرت نہیں رکھتا توکم از کم اِستقامت سے توقریب رہےاور جوکوئی نجات چاہتا ہے تویہ جان لےکہ اعمالِ صالحہ کے بغیر نجات ممکن نہیں اور اعمالِ صالحہ کاصادِرہونا اَخلاقِ حسنہ کے بغیر ممکن نہیں تو ہر شخص کو اپنی صفات اورباطنی اخلاق کی طرف توجہ دینی چاہئےاور ایک ایک کرکے ترتیب وار ان کا علاج کرنا چاہئے،فَنَسْئَلُ اللہَ الْکَرِیْمَ اَنْ یَّجْعَلَنَا مِنَ الْمُتَّقِیْنیعنی ہم کرم فرمانے والےاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں مُتَّقِی بنادے۔
دوسری فصل : اپنے عُیُوب کی پہچان
جان لیجئےکہ جباللہ عَزَّ وَجَلَّکسی بندے کےساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتاہے تو اسے اس کے نفس کے عُیُوب سے باخبر کردیتاہے۔جس کی قلبی بصارت تیز ہو اس پر اپنے عُیُوب پوشیدہ نہیں رہتےاور جب عُیُوب کی پہچان ہوجاتی ہے تو علاج ممکن ہوجاتاہےلیکن اکثر لوگ اپنے عیوب سے بے خبر ہیں انہیں کسی کی آنکھ کا تنکا تو دکھائی دیتاہے لیکن اپنی آنکھ کا شہتیرنظر نہیں آتا۔تو جو اپنے نفس کے عیوب سے باخبر ہوناچاہتا توا س کے چار طریقے ہیں ۔
نفس کے عُیُوب معلوم کرنے کے چار طریقے:
٭…پہلا طریقہ:ایسے شیخ ومرشد کےپاس بیٹھے جو نفس کے عیبوں کی خبر رکھتاہواور پوشیدہ آفات کو جانتاہو۔خودکواس کے حوالے کردےاور اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق مجاہدہ وریاضت کرے، مریدکی اپنے شیخ کے ساتھ اور شاگرد کی اپنے استاد کے ساتھ یہی حالت ہونی چاہئے ۔مرشدوشیخ اسے عیوب کی پہچان کرائےاور اس کے علاج کا طریقہ بتائےلیکن اس زمانے میں ایسے شیخ ومرشدکا وجودنایاب ہے ۔
٭…دوسرا طریقہ:کسی سچےصاحبِ بصیرت اور دین دار دوست کو تلاش کرےاور اسے اپنے نفس پر نگہبان بنائےتاکہ وہ اس کے اَحوال ا وراَفعال پر نظر رکھے اورظاہر وباطن میں جو برائی بھی دیکھےاِس پر اُسے تنبیہ کرے،عقل مند لوگ اور اکابر اَئِمَّۂ دین اسی طرح کیا کرتے تھے۔
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرمایاکرتے تھے:اللہ عَزَّ وَجَلَّاس شخص پر رحم فرمائے جو مجھے میرے عیوب پر مطلع کرے۔