Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
193 - 1245
صِراطِ مستقیم اور پل صراط:
	دوطرفوں کے درمیان حقیقی اوسط نہایت باریک بلکہ بال سے زیادہ باریک اورتلوار کی دھار سے زیادہ تیزہے۔ جو اس صراط مستقیم پر دنیا میں قائم رہے گاوہ آخرت میں اسی طرح لازماًپل صراط کو عبور کرے گا اور ایسا کم ہوتا ہے کہ آدمی کا دل صراط مستقیم یعنی دَرَجَۂ اَوسَط سےجانبین میں سے کسی ایک جانب نہ جھکےاور قلب کا تعلُّق بھی اسی جانب ہوگا جس طرف وہ جھکا ہے جس کے باعث اسے کچھ نہ کچھ عذاب ہوگا اگرچہ وہ پل صراط سے بجلی کی سی تیزی سے گزر جائے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: 
وَ اِنۡ مِّنۡکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا ۚ کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا ﴿ۚ۷۱﴾ ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا (پ۱۶،مريم:۷۱، ۷۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو  تمہارے رب کے ذمّہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے پھر ہم ڈروالوں کوبچالیں۔
	یعنی ان  لوگوں کوبچالیں گے جو صراط مستقیم سےدوری کے مقابلےمیں اس سےزیادہ قریب ہیں اور اس پر استقامت کےمشکل ہونےکی وجہ سےہرآدمی پرضروری ہےکہ وہ دن میں17باریہ دعامانگے: اِہۡدِ نَا الصِّرٰطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ (1) کیونکہ ہررکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنا واجب ہے۔(2)
مجھے سورۂ  ہود نے بوڑھا کر دیا:
	کسی کوخواب میں سیِّدعالَم،نُوْرِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زِیارت ہوئی تو اس نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ ہی سے مروی ہے کہ مجھے سورۂ  ہود نے بوڑھا کر دیا ہے۔(3)اس فرمان عالی کی کیا وجہ ہے؟ارشادفرمایا:’’اس میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا یہ ارشاد ہے:
فَاسْتَقِمْ کَمَاۤ اُمِرْتَ  (پ۱۲،هود:۱۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان: تو قائم رہو جیسا تمہیں حکم ہے۔‘‘
	سیدھے راستے پر استقامت نہایت مشکل امر ہےلیکن انسان کو کوشش کرنی چاہئے کہ اگر وہ اس کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… ترجمۂ کنز الایمان:ہم کو سیدھا راستہ چلا(الفاتحة:۵)۔
2…احناف کے نزدیک:اَلْحَمْد اور اس کے ساتھ سورت ملانا فرض کی دو پہلی رکعتوں میں اور نفل و وتر کی ہر رکعت میں واجب ہے۔(بہارشریعت،۱/ ۵۱۷، حصہ۳)
3…شعب الايمان،باب فی تعظيم القران،ذکرسورة هود،۲/ ۴۷۲،حديث:۲۴۳۹