Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
192 - 1245
 فضول خرچی بھی ایک بیماری ہےجیسے ایک طبیب سردی کا علاج گرمی سے اتنا کرے کہ حرارت بڑھ جائے تو یہ بھی ایک مرض ہےتو مقصد گرمی سردی کے  درمیان اِعتدال(درمیانی حالت)ہونا چاہئےجیساکہ ضرورت سے زیادہ اور کم خرچ کرنے میں اعتدال مقصود ہے تاکہ درمیانی درجہ جو دونوں کناروں سے دور ہے حاصل ہوجائے۔
درمِیانی درجے کو معلوم کرنے کا طریقہ:
	 درمیانی درجے کو معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ  اس فعل کو دیکھے جوبُری خصلت  کا باعث ہے اگر وہ فعل اپنے مخالف فعل کے مقابلے میں زیادہ آسان اور لذیذ معلوم ہورہاہے  تویہ اس بات کی علامت ہے کہ  وہ فعل نفس پر غالب ہے مثلاًکسی پرمال روکنااور جمع کرنامُسْتَحِق پر  خرچ کرنے کے مقابلے میں زیادہ لذیذ و آسان ہوتو جان لیناچاہئے کہ اس  پر بخل کی عادت غالب ہے،ایسی صورت میں مال خرچ کرنے میں ہمیشگی  اختیار کرے اور اگرحق کے ساتھ مال روکنے کے مقابلے میں  غیرمستحق پر  خرچ کرنے میں زیادہ لذت محسوس ہو تو ایسے شخص  پرفضول خرچی غالب ہےایسی صورت میں روکنے کی راہ اختیار کرے۔یوں ہمیشہ دل کی نگہبانی رکھےاور افعال کے آسانی اور مشکل سے صادِر ہونے پر اپنے اَخلاق کی جانچ کرے یہاں تک کہ دل سے مال کی توجہ ختم ہوجائےاور آدمی کا دل نہ خرچ کرنےکی طرف متوجہ ہواور نہ روکنے کی طرف  مائل بلکہ مال اس  کے ہاتھ میں پانی کی طرح ہو،اگر روکنا ہوتو کسی ضرورت کی وجہ سے روکے اور اگر خرچ کرنا ہو تو کسی ضرورت کی وجہ سے خرچ کرےاور خرچ کرنے اور روکنے کو ایک دوسرے پر غالب نہ کرےتو جو دل اس کیفیت کو پہنچ جاتا ہے تووہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے اپنے قلب کی سلامتی کے ساتھ ملاقات کرےگا۔
	یہ ضروری ہے کہ آدمی تمام بُرے اَخلاق سے محفوظ ہو اور دنیاکی کسی چیز سے تعلُّق نہ رکھے یہاں تک کہ جب وہ دنیا سے جائے تو جتنے بھی دنیاوی تعلقات ہوں ان کی طرف اس کی توجہ نہ ہواور نہ ہی ان کےاَسباب کا شوق رکھتاہوجب یہ حالت ہوگی تووہ اپنے ربعَزَّ  وَجَلَّکی طرف اس حال میں لوٹے گا کہ اس کا نفس مطمئن ہوگا، وہ اپنے رب کریمعَزَّ  وَجَلَّسے راضی ہوگا اور اس کا ربعَزَّ  وَجَلَّاس سے راضی ہوگااور اسے  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے مُقَرَّب بندوں اَنبیا، صِدِّیْقِین،شُہَدا اور صالحین کا ساتھ نصیب ہوگااور یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں۔