Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
191 - 1245
اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ وَجِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللہُ بِاَمْرِہٖ ؕ (پ۱۰،التوبة:۲۴)
ہے اور تمہارے پسند کے مکان یہ چیزیںاللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو(انتظار کرو) یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے۔
ایک لاعِلاج مَرَض:
	جسےکوئی چیزاللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے زیادہ پسندہے تو اس کادل بیمارہےجیسے کسی کے معدے کو روٹی اور پانی کے مقابلے میں مٹی زیادہ پسند ہو یا روٹی اور پانی کی خواہش باقی نہ رہے تو وہ مریض ہے اور یہ مرض کی علامات ہیں۔اس دل کے سوا جسےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مرض سے محفوظ رکھا تمام دل مریض ہیں۔کتنے ہی مریض ایسے ہیں جنہیں اپنے مرض کا علم نہیں ہوتا اور دل کا مریض بھی انہیں  میں سے ایک ہےیہی وجہ ہے کہ وہ اپنے مرض سے غافل رہتاہےاور اگر اپنے مرض کی پہچان کربھی لے تو اس مرض کی دوا کی کڑوا ہٹ پر صبر کرنا مشکل ہےکیونکہ اس کی دوا  خواہشات کی مخالفت ہے جو اس پرروح نکلنے کی تکلیف کی مانند ہےاوراگر وہ اس پر قوتِ صَبْر رکھ بھی لے تو کسی ماہر طبیب کو نہیں پاتا جو اس کاعلاج کرےکیونکہ اطبّاتو علما ہیں اور وہ خو د مرض کا شکار ہیں اور بیمار طبیب کم ہی علاج کی طرف توجہ کرتاہے،یوں یہ دل کا مرض ایک لاعلاج مرض بن کرپھیل چکا ہے اور اس کے علاج کا علم مٹ چکاہے،نہ اس کے علاج کو سمجھنے والے رہے اور نہ علاج کرنے والوں کا وجود رہا۔عام لوگ دنیا کی محبت پر اس طرح جھکے کہ انہوں نے ظاہری اعمال کو ہی عبادت سمجھا اور باطن میں ریاکاری اور دکھاوے میں مبتلا ہوگئے۔
یہاں تک اصل امراض کی علامات کا ذکر تھا(اب بیماری اور اس کا طریقہ علاج سنئے)۔
بیماری اور طریقہ علاج:
	علامت ہی ہے جو علاج کے بعد صحت کا باعث بنتی ہےاسی کے ذریعے وہ  بیماری کو دیکھے جس کا علاج کررہاہےجیسے بخل کی بیماری جو ہلاکت میں ڈالنے والی اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دور کرنے والی ہےاس کا علاج مال خرچ کرنے کے ذریعے ہے لیکن بسا اوقات مال اس قدر خرچ کیا جاتا ہے کہ وہ فضول خرچی میں شمار ہوتا ہے اور یہ