Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
190 - 1245
 اِضطراب کے ساتھ ہو۔جیسے ہاتھ کا مرض یہ ہے کہ اس سے پکڑنا مشکل ہوجائے ،آنکھ کا مرض یہ ہے کہ اس سے دیکھنا مشکل ہوجائے۔ اسی طرح دل کا مرض یہ ہے کہ جس خاص فعل  کے لئے اسے  پیدا کیا گیاوہ اس کے لئے مشکل ہوجائےاور دل کا فعل علم ،حکمت،مَعْرِفَت،مَحَبَّتِ الٰہی،عبادت،اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے ذکر سے لذت حاصل کرنا اور اسےاپنی ہر خواہش پر ترجیح دینانیز اپنی تمام خواہشات اور اعضاء سے اس کے لئے مدد چاہناہے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنۡسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوۡنِ ﴿۵۶﴾ (پ۲۷،الذٰريٰت: ۵۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی (اسی) لئے بنائے کہ میری بندگی کریں۔
نفس انسانی کی خاصیت:
ہرعُضْو کا ایک فائدہ ہے اور دل کا فائدہ حکمت اور معرفت ہے نفس انسانی کی خاصیت یہ ہے کہ وہ اس کے ذریعےجانوروں سے ممتاز ہوتاہےاور یہ ممتاز ہونا کھانے ،ہم بستری کرنے،دیکھنے اوران جیسےدیگر معاملات کی وجہ سے نہیں ہوتابلکہ حقائق اشیاء کی معرفت کے سبب حاصل ہوتاہے۔چونکہ تمام اشیاء کو وُجود میں لانے والا اور انہیں بنانے والااللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہے تو جو تمام اشیاء کی معرفت(پہچان)تورکھتا ہے لیکن اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی معرفت نہیں رکھتا تو گویا وہ کسی چیز کی معرفت نہیں رکھتا۔
مَعْرِفَتِ الٰہی کی علامت:
	معرفت کی علامت مَحَبَّتِ الٰہی ہے توجواللہعَزَّ  وَجَلَّکی معرفت رکھتاہےوہاللہ عَزَّ  وَجَلَّسے محبت کرتا ہے اورمحبت کی علامت یہ ہے کہ جس سے محبت ہواس پر دنیا اور اس کے علاوہ دیگر محبوب چیزوں کو ترجیح نہ دی جائےجیساکہاللہ عَزَّ  وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
قُلْ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَ اِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیۡرَتُکُمْ وَ اَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوۡہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَاۤ
 ترجمۂ کنز الایمان: تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر