وفرمانبرداری کا علم ہوتا ہے جبکہ آنکھ کھلنے اور بند ہونے میں دل کی پیروی اس لئے کرتی ہے کہ وہ عمل میں دل کی محتاج ہے اسے اپنی اور اپنی اس پیروی کی کچھ خبر نہیں۔
دل بھی ان لشکروں کا محتاج ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قرب پانے اوراس تک رسائی حاصل کرنے کے لئے یہ لشکردل کی سواری اور زادِراہ ہیں۔نیز قُلُوب کی پیدائش کا مقصدیہی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قرب حاصل کریں جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنۡسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوۡنِ ﴿۵۶﴾ (پ۲۷،الذريت:۵۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی (اسی ) لئے بنائے کہ میری بندگی کریں۔
تو اعضاء دل كی سواری اور علم زادِراہ ہے اور زادِراہ تک پہنچانےاوراس پر قدرت دلانے والے اسباب”اچھے اعمال“ ہیں۔ انسان کے لئے قربِ الٰہی پالینا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کا جسم پرسکون اور دنیا سے کنارہ کش نہ ہوجائے کیونکہ دور تک جانے کے لئے قریبی منزل طے کرنا ضروری ہے۔
اس عالَم کو ”دنیا“ کہنے کی وجہ:
دنیا آخرت کی کھیتی اور ہدایت حاصل کرنے کی جگہ ہے، اسے ”دنیا“ اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ قُربِ الٰہی پانے کی قریبی منزل ہے۔ ضروری تھا کہ دنیا میں دل کو زادِراہ فراہم کیا جائے،لہٰذا جسم اس کی سواری ہے جس کے ذریعے دل اس دنیا تک پہنچتا ہے۔(1)
جسم کی حفاظت کے لئے ضروری لشکر:
جسم چونکہ اس دنیا تک پہنچنےکے لئے دل کی سواری ہے،لہٰذا اس کی حفاظت بھی ضروری ہے اور اس کی حفاظت یہ ہے کہ اسے معتدل غذا دی جائے اور ہلاکت میں ڈالنے والی اشیاء سے دور رکھا جائے۔
معتدل غذا کی فراہمی کے لئے دو لشکروں کا پایا جانا ضروری ہے: (۱)…باطنی یعنی خواہش(۲)… ظاہری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…دنیا کے بارے میں خصوصی معلومات حاصل کرنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 616صفحات پر مشتمل شیخ طریقت، امیراہلسنت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمدالیاس عطارقادریرضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مایہ ناز تصنیف’’نیکی کی دعوت‘‘(حصہ اَوَّل)کے صفحہ259تا 266کا مطالعہ کیجئے!