اسی طرح بعض بزرگوں کے متعلق منقول ہے کہ انہوں نے مال کی محبت دور کرنے کایہ علاج تجویز کیا کہ اپنا تمام مال بیچ کر اس کی قیمت دریا میں ڈال دی تاکہ مال کی تقسیم میں سخاوت کی بڑائی اور ریاکاری کا خوف نہ رہے۔
ان مثالوں کے ذریعے آپ جان گئے کہ دلوں کے علاج کا طریقہ کیا ہےیہاں ہماری غرض ہر بیماری کی دوا نہیں ہے کہ اس کا ذکر تو کتاب کے دیگر حصوں میں آئے گا بلکہ اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ نفس جس چیز کی خواہِش رکھتااور جس طرف مائل ہوتاہے اس کے خلاف کیاجائے۔ اسی کے متعلقاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشادفرمایا:
وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی ﴿ۙ۴۰﴾ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاۡوٰی ﴿ؕ۴۱﴾ (پ۳۰،النٰزعٰت:۴۱،۴۰)
ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرااور نفس کو خواہش سے روکاتو بے شک جنّت ہی ٹھکاناہے ۔
مجاہَدہ ونَفْس کُشی کے سلسلے میں اصل اور اہم بات یہ ہے کہ جس چیز کاپختہ ارادہ کیا جائے اسے پورا کیا جائےاور جب وہ خواہش کو چھوڑنے کاپختہ ارادہ کرے گا تو اس کےلئے خواہش کے اسباب بآسانی مُیَسَّر ہوجائیں گےاور یہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ایک آزمائش اور اِمتِحان ہوگا لہٰذا اس پر صبر کرے اور مستقل مزاجی سے کام لے۔اگر نفس کوعہد شکنی کی عادت ڈال دی تو وہ اس سے مانوس ہوکر فساد میں مبتلا ہوجائے گا، لہٰذااگر اتفاقاً عہد شکنی ہوجائے تو ضروری ہے کہ نفس کو اس پر سزا دےجیساکہ ہم نے نفس کی سزا کے متعلق محاسَبہ اورمراقبہ کے بیان میں ذکر کیا ہےکیونکہ اگر نفس کو سزا سے نہ ڈرایا جائے تونفس انسان پر غالِب آجائے گا اورشہوت کو اپنانااُسے اچھا معلوم ہوگا جس کی وجہ سے تمام ریاضت بے کار جائے گی۔
باب نمبر2: دل کےاَمراض کا بیان
پہلی فصل: دل کےاَمراض اور صحت کی علامات
یہ بات ذِہن نشین کرلیجئے کہ انسانی جسم کا ہر عضو ایک خا ص کام کے لئے پیدا کیا گیا ہےاور اس کے مرض کی علامت یہ ہے کہ وہ کام جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے اس سے بالکل صادِر نہ ہویا صادِر تو ہو لیکن