Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
188 - 1245
 توشیخ اسے روزہ رکھنے کا حکم دےاور اگر روزہ رکھنے کے باوجود اس کی شہوت کم نہ ہو تواسے ایک دن صرف پانی سے بغیر روٹی کے اور ایک دن صرف روٹی سے بغیر پانی کے افطار کا کہےاور گوشت اور سالن کھانے سے اسے بالکل منع کردے یہاں تک کہ اس کا نفس کمزور ہوجائے اور شہوت ختم ہوجائے مجاہَدہ اور ریاضت کے شروع میں بھوک سے بڑھ کرنفع بخش علاج  کوئی نہیں۔
غُصّے کا عِلاج:
	اگر مرید کوغصہ بہت آتا ہو تو اسے برداشت کرنے کی تلقین کرے اور خاموش رہنے کا کہےاور کسی بدمزاج شخص کو مریدکے ساتھ کردے اور اِس کی خدمت پر مرید  کو مامور کردےیہاں تک کہ اس کا نفس برداشت کرنے کا عادی بن جائے۔
بُردباری کاحُصُول:
	منقول ہے کہ ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنے نفس کو غصے سے چھٹکارا دلانااور بُردباری کا عادی بنانا چاہا تو انہوں نے اس کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ خود کوایسے شخص کی ملازمت میں دیا جو انہیں لوگوں کے سامنے گالیاں دیا کرتا اس پر وہ بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہصبر کا اظہار کرتے اور غصہ پی جاتے یہاں تک کہ بُردباری ان کی عادت بن گئی اور اسی  پر  ان کے لئے ضَرْبُ الْمَثَل مشہور ہوگئی ۔  
بُزدِلی اور دِل کی کمزوری دور کرنے کا عِلاج:
	ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنے آپ میں بُزدِلی اور دل کی کمزوری محسوس کیا کرتے تھےتو انہوں نے اپنے آپ میں وصفِ شُجاعت پیدا کرنے کے لئے یہ طریقہ اِختیار کیا کہ جب سردیوں میں دریا کی موجیں خوب اٹھتیں تو وہ کشتی میں سوار ہوجاتے۔
	ہندوستان کے پجاری سستی کا علاج یوں کرتے کہ وہ رات بھر ایک ہی طریقے پر کھڑے رہتے۔
بعض مشائخ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ راہِ طریقت کی ابتدا  میں قیام پر سستی محسوس کرتے تو رات  بھر سر کے بل کھڑے رہتے تاکہ نفس قیام کے لئے پاؤ ں پر کھڑا ہونے کوبخوشی مان جائے۔