Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
187 - 1245
 (اطاعت)کرےیا بت کا پجاری بنے اس میں کیا فرق ہے؟ جب بھی بندہ غیرُاللہ کی عبادت کرتاہے  تو وہاللہ  عَزَّ  وَجَلَّ سے حِجاب(پردے)میں رہتاہےاور جو اپنے کپڑوں میں بجز اس کے حلال اور طاہر ہونے کے اپنے دل کو مشغول کرتاہے تو وہ اپنے نفس میں مشغول کہلاتاہے۔
ایک نکتہ:
	مجاہَدہ و نَفْس کُشی کےسلسلے میں ایک نکتہ یہ ہے کہ جب مُرید خواہِشِ نفس یا اس کے علاہ کسی دوسری بُری صفت  کوبالکل چھوڑنے پر تیار نہ ہو اور یکبارگی چھوڑنے والی ضد کو گوارا نہ کرےتو مُرشِد کو چاہئےکہ اسے ایک مَذمُوم صِفَت سے دوسری مذموم صفت کی طرف منتقل کردےجو اس سے خفیف ہوجیسے کسی کے کپڑوں میں خون لگ جاتاہے اور وہ خون پانی سے زائل نہیں ہوتاتو وہ اسے پہلے پیشاب کے ذریعے دھوتا ہے پھر پیشاب کو پانی سے دھوتاہےاسی طرح بچے کو جب مدرسے  کی ترغیب دی جاتی ہے تو اسے گیندبلا یا اس کے علاوہ دیگر کھیلوں  کا لالچ دیا جاتاہے پھر اس کے ذہن کو زیب وزینت اور اچھے کپڑوں کی طرف راغب کیا جاتاہے پھر ریاست اور جاہ ومرتبے کے حُصُول کی طرف اس کے ذہن کو پھیراجاتاہے پھر آخرت کی ترغیب دلاتے ہوئے اس کے ذہن کو جاہ ومرتبے سے منتقل کیا جاتاہے۔
	اسی طرح جو شخص یک دم جاہ ومرتبے  کو چھوڑنے کے لئےراضی  نہ ہو تو اسے اس سے ہلکی چیز کی طرف منتقل کیا جائے اور باقی دیگر صفات میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا جائے۔
کھانے کی حِرص کاعِلاج:
	کسی مریدپر کھانے کی حرص غالب ہو تو شیخ اسے روزہ رکھنے اور کم کھانے کی تلقین کرےپھر اسے یہ حکم دے کہ وہ لذیذ کھانے تیار کرکےدوسروں کو کھلائے خود اس میں سے کچھ نہ کھائےیہاں تک کہ اس پر اس کا نفس مضبوط ہوجائے صبر کرنااس کی عادت بن جائےاور حرص کا خاتمہ ہوجائے۔
شہوت کا عِلاج:
	کوئی  مریدنوجوان ہواور نکاح  کی رغبت رکھتاہولیکن شادی کرنے کے لئے نان ونفقہ کی طاقت نہیں رکھتا