اور ریاضت کی تکالیف جو ایک مخصوص فن اور مخصوص طریقےسے تعلُّق رکھتی ہوں ان پر نہ ڈالے جب تک ان کے اَخلاق اوراَمراض کی معرفت حاصل نہ کرلے۔جس طرح طبیب اگر تمام اَمراض کا علاج ایک ہی طریقہ علاج سے کرے تو وہ بہت سے لوگوں کو ہلاک کردےگااسی طرح مرشداگر مریدین کو ایک ہی طرح کی ریاضت ومجاہدےکا پابند بنائے تو وہ انہیں اور ان کے قلوب کو ہلاکت میں مبتلا کردے گا۔
عِلاج کا طریقہ:
مرشد و شیخ کوچاہئے کہ مرید کے مرض،حالت،عمراور مزاج پر نظر کرےاور یہ دیکھےکہ وہ کس قسم کی ریاضت ومجاہدے کو برداشت کرسکتاہے اسی کے مطابق اس سے مجاہدہ اور ریاضت کرائےجیسے کہ مرید اگر ابتدائی درجے کاہے، حُدُودِشرعیہ سے ناواقف ہے تو سب سے پہلے اسے طہارت ونماز اور ظاہری عبادات سکھائے اگر وہ مالِ حرام میں مشغول ہے یا کسی گناہ میں مبتلاہے تو پہلے اسے ان کے چھوڑنے کا کہےپھر جب اس کا ظاہر عبادات سے مُزَیَّن ہوجائے اور ظاہری اعضاء بھی گناہوں سے پاک ہوجائیں توقرائِنِ اَحوال سے اس کے باطن کی طرف نظر کرےتاکہ اس کے اَخلاق اور قلبی اَمراض کو سمجھ سکے۔ اگر اس کے پاس ضرورت سے زیادہ مال دیکھے تو لیکر خیرات کردے اور اس کے دل کو اس سے فارغ کردے کہ وہ اس کی طرف متوجہ نہ رہے،اگر دیکھے کہ اس میں خواہِشِ نفس کی پیروی،تکبُّراور بڑائی غالب ہے تو اسے بازاروں میں(حاجت کےوقت) بھیک مانگنے اور لوگوں سے سوال کرنے کاکہےکیونکہ جاہ ومنصب کی بڑائی بغیر ذِلَّت کے نہیں جاتی اوربھیک مانگنے سے بڑھ کر کوئی ذِلَّت نہیں جب تک اس سے تکبُّر وبڑائی دور نہیں ہوجاتی اس وقت تک اسے پابندی سے اس کام پر لگائے رکھےکیونکہ تکبُّر اور خواہِشِ نفس کی پیروی ہلاک کرنے والے اَمراض میں سے ہے۔
اگر مرید میں زیب وزینت اوربننےسنورنے کا غلبہ دیکھےاور اس میں خوشی سے اس کا دل مائِل دیکھے تواس سے بَیْتُ الْخلااور گندی جگہوں کی صفائی کا کام لےیا پھر اس سے باورچی خانے اور دھوئیں کی جگہوں پر کھڑا ہونے کی خدمت لے حتّٰی کہ صفائی کے سلسلے میں اس کے مزاج سے خواہِشِ نفس ختم ہوجائے کیونکہ جو لوگ کپڑوں میں بناؤ سنگار اور زیب وزینت اختیار کرتے اوررنگ برنگے مصلے طلب کرتے ہیں، ان میں اور اس دلہن میں کیا فرق ہے جو دن بھر بناؤ سنگار میں لگی رہتی ہے۔اسی طرح جو انسان اپنے نفس کی عبادت