حفاظت کاکہتاہے اور اگر بیمار ہو تو اسے صحت مند بنانے کی کوشش کرتاہے۔
دل کی بیماری کا علاج:
اسی طرح نفس اگر پاک ومُہَذَّب ہے تو اس کی حفاظت اور اسے مزید مضبوط اور صاف رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اگر اس میں کمال اور صفائی نہ ہو تو اس کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔بیماری جوبدن کے اِعتدال کو تبدیل کرتی اور مرض کا باعث بنتی ہے اس کا علاج اس کی ضد کے ذریعے ہوتاہے جیساکہ بیماری کا اگر تعلق گرمی سے ہے تو ٹھنڈی چیزوں سے علاج کیا جاتاہے اور اگر سردی سے ہے تو گرم چیزوں سے علاج کیا جاتاہےاسی طرح بُری عادات جو دل کی بیماری ہیں ان کا علاج ضد کے ذریعے ہوتاہےتو مرضِ جہالت کا علاج علم سے ،بخل کا علاج سخاوت سے ،تکبُّر کی بیماری کا علاج تواضع سےاورحرص کا علاج بتکلُّف خواہش نفسانی سے رُکنے سے۔الغرض جس طرح بیماری میں کڑوی دوائیں برداشت کرنی پڑتی ہیں اور پسندیدہ چیزوں سےپرہیز کرتے ہوئے صبر کرنا پڑتاہے اسی طرح دل کی بیماری دور کرنے کے لئے مجاہدے اورصبر کی کڑواہٹ برداشت کرنی پڑتی ہے بلکہ یہ زیادہ ضروری ہے کہ بدن کا مرض تو موت سے ختم ہوجاتاہے لیکن دل کا مرض اللہ عَزَّ وَجَلَّ پناہ میں رکھے ایک ایسا مرض ہے جوموت کے بعد بھی ہمیشہ کے لئے باقی رہتاہے۔
ہر ٹھنڈی چیز اس بیماری کے لئے درست قرار نہیں پاتی ہے جس کا باعث گرمی ہومگر یہ کہ وہ مخصوص حدپر ہو اور دوائی کی تجویز شدت وضعف،کم وزیادہ مُدَّت اورکثرت و قلّت کے اعتبار سے مختلف ہو اور اس کےلئے کسی معیّنہ مقدار کا ہونا ضروی ہے جو نفع بخش ہو کیونکہ اگر معیّنہ مقدار کا لحاظ نہ رکھاجائے تو فساد بڑھ سکتاہے اسی طرح جن مخالف چیزوں کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے ان کابھی کوئی معیار ہونا ضروری ہے۔جس طرح دوائی کا معیار بیماری کے مطابق ہوتاہےیہاں تک کہ طبیب اس وقت تک علاج شروع نہیں کرتا جب تک وہ یہ نہ جان لے کہ بیماری گرمی کے باعث ہےیا سردی کی وجہ سے،اگر بیماری گرمی کے باعث ہے تو وہ اس کے درجے کو معلوم کرتاہے کہ اس میں شِدَّت ہے یا ضُعْف ۔جب اس کی پہچان ہوجاتی ہے تو وہ بدن کے اَحوال ،موسم کے حالات ،مریض کے کام کاج اور اس کی عمر اور اس کے علاوہ باقی دیگر احوال کو مَدِّنظر رکھتے ہوئے علاج کرتاہےاسی طرح وہ شیخ ومرشد جو مریدین اور ان کے قُلُوب کا علاج کرتاہے اسے چاہئے کہ یکبارگی مجاہدے