فضیلت کا حامل ہےاور جو شخص طبعی طور پر بدخصلت ہو پھر اسے بُری صحبت مل جائےجسے وہ سیکھے اور برائی کے اسبا ب بھی اسے آسانی سے مُیَسَّرآجائیں یہاں تک وہ اس کا عادی بن جائےتو وہاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے بہت دور ہوجاتاہے اور جس میں ان تین جہات کا اِختلاف ہےتو وہ دو مرتبوں کے درمیان ہے ہر ایک کا قُرب وبُعد اس کی صفت اور حالت کے اعتبار سے ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿۷﴾ وَ مَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾ (پ۳۰،الزلزال:۷،۸)
ترجمۂ کنز الایمان: تو جو ایک ذرّہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرّہ بھر بُرائی کرے اسے دیکھے گا۔
ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
وَمَا ظَلَمَہُمُ اللہُ وَلٰکِنْ اَنۡفُسَہُمْ یَظْلِمُوۡنَ﴿۱۱۷﴾ (پ۴،اٰل عمرٰن:۱۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ نے ان پر ظلم نہ کیا ہاں وہ خود اپنی جان پرظلم کرتے ہیں ۔
پانچویں فصل: تہذیب اَخلاق کا تفصیلی طریقہ
یہ بات تو آپ کے علم میں آچکی ہے کہ اَخلاق کا اِعتدال پر رہنا نفس کی دُرُستی پر دلالت کرتا ہے اور اِعتدال سے ہٹ جانا(رُوحانی) بیماری اور مرض کی دلیل ہےجیساکہ بدن کے مزاج میں اعتدال صحت ِ بدن پر دلا لت کرتاہے اور اس کا اعتدال سے ہٹ جانا جسمانی بیماری کی دلیل ہےتو ہم بدن کو مثال بناتے ہوئے کہتے ہیں علاج کے سلسلے میں نفس کی مثال یوں ہے کہ اس سےگھٹیا اوربُرے اخلاق کو دورکیا جائے، فضائل اور اچھےاخلاق کو اپنایا جائے۔بدن کی مثال یہ ہے کہ اس کا علاج کرتے ہوئے اس سے بیماریوں کو دور کیا جائے اور اس کی صحت کے لئے کوشش کی جائے۔اصل مزاج پر اعتدال غالب ہوتاہے پھر غذا ،خواہش اور مختلف اَحوال کی وجہ سے معدے میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے جیساکہ ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہےپھر اس کے ماں باپ اسے یہودی ، عیسائی یا مجوسی بنادیتے ہیں یعنی عادت یاسیکھنے کے ذریعے وہ بُرے اَخلاق کو اپناتا ہےجیساکہ بدن ابتدا میں کامل نہیں ہوتا غذا کے ذریعے اس کی نَشْوونَما اور تربیت ہوتی ہے تووہ کامل اور مضبوط ہوجاتاہے۔اسی طرح نفس بھی ناقص پیدا کیا گیا ہے لیکن کمال کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتاہےیہ کمال تہذیب وتربیت اورعلمی غذا کے ذریعے حاصل ہوتاہے ۔جس طرح بدن اگر صحیح ہوتوطبیب صحت کی