Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
183 - 1245
 ملتاہے کہ وہ تاثیر کے مقابلے میں ہوتاہےاور معصیت کا بھی یہی حال ہے۔کتنے ہی فقہ حاصل کرنے والے ایسے ہیں جو ایک دن کی چھٹی کو معمولی خیال کرتے ہیں پھر مسلسل چھٹیوں کے ذریعے نفس کو ایک ایک دن کا لالچ دیتے رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کی طبیعت فقہ کو قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے،  اسی طرح جو آدمی صغیرہ گناہوں کو معمولی خیال کرتاہے اور نفس کو توبہ کا لالچ دیتارہتاہے حتّٰی کہ اچانک وہ موت کا شکار ہوجاتاہےیا پھر اس کا دل گناہوں کی سیاہی سے بھر جاتاہےاور اب اس کے لئے توبہ کرنا مشکل ہوجاتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تھوڑا عمل زیادہ کی طرف لے جاتاہے جس کے باعث دل خواہشات کی زنجیروں میں جکڑ جاتاہےپھر اس کے چُنگل سے چھٹکارا ممکن نہیں رہتا یہی معنیٰ توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کا بھی یہی مطلب ہے:
وَ جَعَلْنَا مِنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِہِمْ سَدًّا (پ۲۲،يٰسٓ:۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے ان کے آگے دیوار بنادی اور ان کے پیچھے ایک دیوار ۔
سفیدو سیاہ نقطہ:
	امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں:ایمان دل میں ایک سفید نکتے کی مانندظاہر ہوتاہےجتنا ایمان زیادہ ہوتا ہے اسی  قدر اس سفیدنکتے کی سفیدی میں اضافہ ہوتارہتا  ہے یہاں تک کہ پورا دل سفید ہوجاتاہے ۔جبکہ نِفاق دل میں ایک سیاہ نکتے کی مانند ہے جس قدرنِفاق بڑھتارہتا ہےاسی  قدر سیاہ نکتہ بھی بڑھتارہتاہے یہاں تک کہ پورا دل سیاہ ہوجاتاہے۔
اَخلاق حَسَنَہ اور جِہاتِ ثلاثہ:
	آپ جان چکے ہیں کہ اَخلاق حسنہ کبھی تو طبعی اور فطری طور پر ہوتے ہیں اور کبھی عادت ڈالنےسے حاصل ہوتے ہیں اور کبھی نیک لوگوں کو دیکھنے اور ان کی صحبت اختیار کرنےسے  حاصل ہوتے ہیں۔ نیک لوگوں سے مراد اپنے علم پر عمل کرنے والے عُلَماہیں ۔ایک طبیعت دوسری طبیعت سے خیروشَردونوں حاصل کرتی ہے تو جس شخص میں تین جِہات جمع ہوجائیں یعنی  وہ طبعا ً،عادتاً اورسیکھ کرفضیلت کو پہنچا ہوتو یہ شخص انتہائی درجے کی