عادی بن جائے گا حالانکہ شروع میں اسے پریشانی کا سامنا تھا۔اچھا کاتب وہی شخص بن سکتا ہے جو اچھی کتابت کی کوشش کرتاہے اگرچہ شروع میں اسے پریشانی کا سامنا ہوتاہےلیکن بعد میں اس کے دل تک اس کا اثر پہنچ جاتا ہے پھر دل سے اعضاء تک اس کا اثر منتقل ہوتاہےیہاں تک کہ وہ طبعاً ایک اچھا کاتب بن جاتاہے۔
اس طرح جو شخص فَقِیْہہ(عالِم)بننا چاہتاہے تو اس کا طریقہ کا ر یہ ہے کہ وہ فُقَہائے کرام کے اَفعال کی پیروی کرے یعنی مسائل فقہ کا تکرار کرےیہاں تک کہ فقہ اس کے دل میں اتر جائےتب جا کر وہ فقیہہ ہوگا۔اسی طرح جو شخص سخی ،پارسا،بُردبار اور عاجزی کرنے والا بننا چاہتاہے تو اسے چاہئے کہ وہ ان اَخلاق کو اپنانے والے لوگوں کی پیروی کرے اگرچہ شروع میں اسے پریشانی کا سامنا ہوگا لیکن بعد میں آہستہ آہستہ یہ اخلاق اس کی طبیعت کا حصہ بن جائیں گے،اس کے عِلاوہ اس کا کوئی علاج نہیں۔جس طرح عِلْمِ دین حاصل کرنے والا طالب علم ایک روز چھٹی کرنے کی وجہ سےعالِم بننے کے رتبے سے محروم نہیں ہوسکتا اور نہ وہ ایک دن کے تکرار سے عالِم کے رتبے تک پہنچ سکتاہےکہ فقیہہ بن جائے، اسی طرح نفس کے تَزکیہ اور کمال نیز اَعمالِ صالحہ سے اسے مُزَیَّن کرنے والا ایک دن کی عبادت سے یہ مقصد حاصل نہیں کرسکتااور نہ ہی ایک دن کے گناہ سے اس سے محروم ہوسکتا ہے۔ ہماری اس بات کامطلب یہ ہے کہ ایک کبیرہ گناہ ابدی بدبختی کا سبب نہیں(کہ اس کی وجہ سے مجاہد ہ ونفس کُشی چھوڑ دی جائے)،البتہ ایسا ہوجاتاہے کہ ایک دن کی چھٹی مزید چھٹیوں کی طرف لے جاتی ہے پھر آہستہ آہستہ نفس سستی کی طر ف مائل ہوجاتاہے اور مقصد کے حصول کو بالکل ترک کردیتاہے جس کی وجہ سے وہ فقہ کی فضیلت سے محروم رہ جاتاہے اسی طرح صغیرہ گناہوں کا معاملہ ہےکہ ان میں سے بعض گناہ بعض دوسرے گناہوں کی طرف لے جاتے ہیں یہاں تک کہ اصل سعادت فوت ہوجاتی ہے اور پھر بسااوقات موت کے وقت ایمان سے ہی محرومی ہوجاتی ہے۔(نَعُوْذُبِاللھِ مِنْ ذٰلِکَ) ۔
ایک رات کے تکرار سے آدمی فقیہہ نہیں ہوسکتابلکہ فقہ کا ظہور تھوڑا تھوڑا کرکے بتدریج حاصل کرنے سے ہوتاہےجیسے انسان کا بدن آہستہ آہستہ نَشْوونَماپاتاہے اور قد آہستہ آہستہ بڑھتاہےاسی طرح ایک بار کی اطاعت نفس کے تزکیہ اور تَطْہِیر میں مُؤَثِّر نہیں ہوسکتی لیکن تھوڑی عبادت کو حقیر نہ سمجھا جائےکہ تھوڑی مل کربہت ہوجاتی اور اثر انداز ہوتی ہے۔ہر عبادت مُؤَثِّر ہوتی ہے اگر چہ اس کا اثر پو شیدہ ہوبہر حال ثواب ضرور