لوگوں میں دیکھا اسے اپنے لئے بھی اچھا سمجھا۔ جب باطل چیزکےعادت میں شامل ہوجانے پر نفس کو اس سے لذت حاصل ہوتی ہے اور نفس قبیح باتوں کی طرف مائل ہوجاتا ہے تو امْرِحَق پرعرصہ دراز تک ہمیشگی اختیارکرنے سے لذت کیوں حاصل نہ ہوگی بلکہ دیکھاجائے تو بُرے اُمور کی طرف نفس کا میلان غیر فطری ہے جیسے کسی کو مٹی کھانے کی رغبت ہوجبکہ بعض لوگوں کو مٹی کھاتے کھاتے اس کی عادت پڑجاتی ہے۔
جس طرح کھانے پینے کی طرف رغبت فطری ہوتی ہے اسی طرح حکمت ، محبتِ الٰہی،معرفت اور عبادتِ الٰہی کی طرف رغبت قلبی تقاضے کے باعث ہوتی ہےاور قَلْب اَمْرِ ربّانی ہے۔خواہشات کے تقاضوں کی طرف اس کی رغبت عارضی تو ہوسکتی ہے لیکن دائمی اور فطری نہیں ہوسکتی ،دل کی غذا حکمت ،معرفت اور مَحَبَّتِ الٰہی ہےلیکن یہ کسی مرض کے سبب اپنی طبیعت کے تقاضےسے پھر جاتاہے جیسے معدے میں کسی مرض کے سبب کھانے پینے کی خواہش نہیں رہتی حالانکہ کھانا، پینا زندگی کےباقی رہنے کا سبب ہےاسی طرح جو دل غیرُاللہ کی طرف مائل ہوجاتاہےتو جس قدر وہ مائل ہوتاہے اسی قدر وہ مرض میں مبتلاہوتاہے۔البتہ اگر معاملہ یہ ہو کہ غیرُاللہ سے محبتاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہواور یہ محبت دین پر مدد گار ہوتو یہ محبت مرض شمار نہیں ہوگی۔
اَچّھے اَخلاق کےحُصُول کا طریقہ :
اب یقینی طور پر یہ معلوم ہوگیا کہ اچھے اَخلاق نفس کُشی اور مجاہدے کے ذریعے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ اس کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے کہ شروع میں افعال بتکلُّف صادر ہوتے ہیں پھر بالآخر وہ اس کی عادت بن جاتے ہیں۔قلب اور اعضاء یعنی نفس اور بدن کے درمیان ایک عجیب طرح کا تعلق ہے کیونکہ جو چیز دل میں ظاہر ہوتی ہے اس کا اثراعضاء پر بھی پڑتا ہےیہاں تک کہ اعضاء دل کی حرکت کے موافق ہی حرکت کرتے ہیں اور اعضاءسے جوفعل صادر ہوتاہے اس کا تعلق بھی دل سے ہی ہوتاہےاور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا ہے۔اسے آپ ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں:ایک شخص ہے جو کتابت میں مہارت چاہتاہے کہ یہ اس کی صِفَتِ نفسی اور عادت بن جائے تو اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ شروع میں اپنے ہاتھ سے مشق کرے اور ایک مدت تک کسی ماہر کاتب کی نقل کرتارہے۔جب وہ مشق شروع کرے گا تو شروع میں اسے پریشانی کا سامنا ہوگا لیکن آہستہ آہستہ جب وہ پابندی سے مشق کرتارہے گا تو یہ اس کے نفس میں راسخ ہوجائے گی یہاں تک کہ وہ اچھی کتابت کا