ہوتا ہے جب وہ شریعت اور عقل کے ترازو پر ان کو تولتاہے پھر وہ اس پر خوش ہوتااور لذت محسوس کرتا ہےاوریہ بات ناممکن نہیں ہے کہ نماز میں سُرور حاصل ہونے لگےاور نماز آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائے اور عبادات میں لذت محسوس ہونے لگے کیونکہ عادت کے باعث تو نفس میں اس سے بھی زیادہ عجیب و غریب اُمور پیدا ہوتے ہیں،جیساکہ ہم دیکھتے ہیں بادشاہ اور مال دارلوگ ہمیشہ غمگین رہتے ہیں جبکہ مفلس جواری بسا اوقات اپنے جوئے میں لذت اور خوشی پاتا ہے اگر دوسرے لوگوں کی بھی یہ حالت ہوجائے جیسے اس کی حالت ہے تو جوئے کے بغیر اُن کی زندگی بوجھ بن جائے حالانکہ بعض اوقات جو اری کا مال جوئے کی وجہ سے چلا جاتا، گھر تباہ ہوجاتا اور وہ مفلس بن جاتاہے لیکن اس کے باوجود وہ جوئے سے محبت کرتااور اس سے لذت محسوس کرتاہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ ایک طویل عرصے تک اس سے مانوس رہا اور خود کو اس میں لگائے رکھا۔
اسی طرح کَبُوتربازبسا اوقات دن بھر دھوپ میں کھڑا رہتاہے پرندوں کی حَرَ کات،اُڑان اور آسمان میں ان کے حلقہ بنانے پر خوشی محسوس کرتاہے ،اسےدھوپ میں کھڑے ہونے کی تکلیف کا احساس نہیں ہوتا اسی طرح ہم فاسق وفاجراور عیّار قسم کے لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ انہیں مار پڑتی ہے یا چوری پر ہاتھ کٹتا ہے تو وہ اس پر فخر کرتے ہیں اور بڑے صبر سے کوڑے کھالیتے ہیں انہیں سولی پر چڑھانے کے لئے لے جایا جاتا ہے لیکن وہ بڑی خوشی اور صبر سے اس کا سامنا کرتےاور اسے اپنے لئے باعث فخرسمجھتے ہیں ان میں سے کسی کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جاتاہے کہ وہ اپنے یا کسی دوسرے کے متعلق جرم کو تسلیم کرے لیکن وہ انکار پر ڈٹا رہتا ہے اورسزاؤں کی پروانہیں کرتا کیونکہ وہ اسے کمال ، بہادری اور مردانگی سمجھ رہا ہوتا ہے تو باوجود اس سزا کے وہ اپنے عمل کو آنکھوں کی ٹھنڈک اور باعثِ فخر سمجھتا ہےاور ان سے بھی گئی گزری حالت ہیجڑوں کی ہے کہ وہ عورتوں سے مشابہت اختیار کرتے ہوئے چہرے کے بال مونڈتےہیں ،چہرے کوگوندھتےاور عورتوں سے میل جول رکھتے ہیں اور اپنی اس حالت پر خوش ہوتے اور اپنےمُخَنَّث(نامرد)ہونے پر باہم فخر کرتے ہیں اسی طرح حجامت کرنے والے اور جھاڑو دینے والے بھی ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کرتے ہیں جیسے سَلاطِیْن اور عُلَما فخرکا اظہارکرتے ہیں۔
یہ تمام باتیں عادت کا نتیجہ ہیں جس سے عرصہ دراز تک تعلق رہا اور جو کچھ اپنے ساتھیوں اور ہم مجلس