Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
179 - 1245
اللہعَزَّ  وَجَلَّکی عبادت خوش دلی سے کرو! 
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے محبوب،دانائے غُیُوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمان مُشکبارہے:اُعْبُدِاﷲَ فِی الرِّضَافَاِنْ لَّمْ تَسْتَطِعْ فَفِی الصَّبْرِ عَلَی مَا تَکْرَہُ خَیْرٌ کَثِیْریعنی خوش دلی کے ساتھاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت کرواگر ایسا نہ کرسکو تو ناگوار بات پر صبر کرنے میں بہت بھلائی ہے۔ (1)
سعادت کیا ہے؟
	سعادت کے  حُصول کے لئے یہ بات کافی نہیں کہ کبھی توا طاعت میں مزہ ہواور نافرمانی بُری معلوم ہواورکبھی ایسانہ ہو بلکہ یہ کا م دائمی ہونا چاہئے اور ساری زندگی پایا جانا چاہئےاور جب عمر زیادہ طویل ہوگی تو فضیلت زیادہ راسخ اور کامل ہوگی اسی لئے جب رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سعادت کےمتعلق سوال کیا گیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:طُوْلُ الْـعُمْرِ  فِیْ طَاعَةِ اﷲِیعنی تمام عمر اطاعتِ الٰہی میں بسر کرنا۔(2)
	یہی وجہ ہے کہ  انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام اور اولیائے عِظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامموت کو پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اور جب عمر زیادہوگی تو عبادات کی کثرت ہوگی جس سے ثواب زیادہ ہو گا اور نفس خوب پاک  وستھرا ہوگا،اَخلاق زیادہ قوی اور راسخ ہوں گے۔ عبادات کا مقصد دل میں ان کی تاثیر ہے اوریہ تاثیر عبادت پر ہمیشگی اختیار کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
اَخلاق حَسَنَہ کی غَرَض:
	اِن اخلاق کی غرض یہ ہے کہ نفس سے دنیا کی محبت منقطع  ہوجائے اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی محبت نفس میں  راسخ ہوجائے، اس صورت میں اسےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ملا قات سے بڑھ کر کوئی بات پسند نہیں ہوتی اور وہ اپنا تمام مال اس کام پر خرچ کرتاہے جو اسے بارگاہِ الٰہی تک پہنچائے اور اس کا غصّہ اور خواہش اس کے قابو میں ہوتی ہے اور ان دونوں کو اس طریقے پر استعمال کرتاہے جس سے وہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا قُرب حاصل کرے اور یہ اسی صورت میں حاصل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الباب الاول فی الاخلاق والافعال المحمودة،۳/ ۳۰۳، حديث:۸۶۵۷ بتغیر
2…تاريخ مدينه دمشق،الرقم:۳۹۲۳،عبدالرحمن بن قريش،۳۵/ ۳۴۰