سے مسلسل یہ کام لے اور بتکلُّف اس پر ہمیشگی اختیار کرے اور اپنے نفس کے ساتھ خوب کوشش کرےحتّٰی کہ سخاوت اس کی فطرت بن جائے اوریہ معاملہ اس کے لئے آسان ہوجائے اس طرح وہ سخی ہوجائے گا۔
یوں ہی وہ شخص جس پر تکبُّر کا غلبہ ہو اگر وہ اپنے اندرعاجزی کی صفت پیدا کرنا چاہےتو اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ طویل عرصہ عاجزی کرنے والوں کے طریقے پر عمل کرے اور اس سلسلے میں خوب نفس کُشی کرے اور بتکلُّف یہ عمل کرتا رہے یہاں تک کہ یہ بات اس کی طبیعت میں شامل ہو جائے اور اس کے لئے یہ عمل آسان ہوجائے،جتنے بھی اَخلاق شریعت کے نزدیک قابلِ تعریف ہیں وہ اسی طریقے پر حاصل ہوتے ہیں۔اس سلسلے میں انتہایہ ہے کہ بندے کو اُس کام میں لذت محسوس ہونے لگے جیسے سخی وہ ہے جو مال خرچ کرنے میں لذت محسو س کرتاہے نہ کہ وہ جو ناخوشی سے مال خرچ کرتاہے،متواضع وہ ہے جوعاجزی سے لذت محسوس کرتا ہے۔
دینی اَخلاق نفس میں کب راسخ ہوتے ہیں؟
دینی اخلاق نفس میں اس وقت راسخ ہوتے ہیں جب نفس تمام اچھی عادات کا عادی بن جاتا، بُرے کاموں کو چھوڑ دیتا،اچھےکاموں پر اَہْلِ شوق کی طرح پابندی اختیار کرتا اور اس سے لذت حاصل کرتاہے نیز برے کاموں کو ناپسند جانتا اوران سے تکلیف محسوس کرتاہے جیساکہ پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان عالیشان ہے:وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوةیعنی نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک رکھی گئی ہے۔(1)لہٰذا جب تک نفس عبادتِ الٰہی بجالانے اور ممنوعات کو چھوڑنے میں مشقت اور دشواری محسوس کرتا رہے گا تب تک نقصان باقی رہےگا اورسعادت مندی کا کمال حاصل نہیں ہوگا،البتہ مشقت اور دشواری کے احساس کے ساتھ نیک اَعمال کی پابندی کرنا بہترضرور ہےاور یہ بہتری نیک اَعمال کو ترک کرنے کے مقابلے میں ہے، خوش دلی سےبجالانے کے مقابلے میں نہیں ۔اسی لئے اللہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرماتاہے:
وَ اِنَّہَا لَکَبِیۡرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیۡنَ﴿ۙ۴۵﴾(پ۱،البقرة:۴۵)
ترجمۂ کنز الایمان: اور بے شک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… سنن النسائی ،کتاب عشرة النساء،باب حب النساء،ص۶۴۴، حديث:۳۹۴۶