اور غصے کے متعلق ارشاد فرمایا:
اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْ (پ۲۶،الفتح:۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان: کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل۔
میانہ روی اور اس کی حکمت:
حضورنبیّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’خَیْرُ الْاُمُوْرِ اَوْسَاطُھَایعنی بہترین کام وہ ہیں جو میانہ روی کے ساتھ کئے جائیں۔‘‘
٭…میانہ روی کی حکمت:میانہ روی اختیار کرنے میں ایک راز اورحقیقت ہے کہ دل کا عوارِضِ دُنیا سےمحفوظ ہونا باعث سعادت ہے۔چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اِلَّا مَنْ اَتَی اللہَ بِقَلْبٍ سَلِیۡمٍ ﴿ؕ۸۹﴾(پ۱۹،الشعرآء:۸۹)
ترجمۂ کنز الایمان:مگروہ جواللہکے حضورحاضرہوا سلامت دل لے كر ۔
بُخْلعوارِضِ دُنیا سے ہے اسی طرح فُضُول خرچی بھی۔دل کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ ان دونوں (عوارض)سے محفوظ ہو یعنی مال کی طرف اس کا اِلتفات نہ ہو اور نہ مال خرچ کرنے پر حریص ہو ،اسی طرح مال روکنے پر بھی حریص نہ ہو کیونکہ جو شخص مال خرچ کرنے پرحریص ہوتاہے اس کادل مال خرچ کرنے کی طرف متوجہ رہتاہے ۔اسی طرح مال روکنے والے حریص کا دل مال روکنے کی طرف لگارہتا ہے جبکہ کمال تو یہ ہے کہ دل ان دونوں باتوں سےصاف ہواور چونکہ ایسا ممکن نہیں کہ یہ دونوں باتیں ہی نہ ہوں تو ہم نے ایسی بات کی طرف رجوع کیا جوان دونوں کے نہ ہونے کے مشابہ ہو اور اس کے دونوں کناروں سے دور ہو اور وہ درمیانی راہ ہے جیسے نیم گرم پانی کہ نہ وہ ٹھنڈا ہوتاہے اور نہ گرم بلکہ ان دونوں کے درمیان ہوتاہے۔ گویا وہ دونوں وصفوں سے خالی ہوتا ہے اسی طرح سخاوت فضول خرچی اور کنجوسی کے درمیان واقع ہے، شُجاعت بزدلی اور تَہَوُّر(بیوقوفانہ دلیری) کے درمیان ہے ،عِفَّت، حرص اور جُمُود(عَدمِ حرص) کے درمیان ہے اور باقی تمام اخلاق کا معاملہ بھی اسی طرح ہے تو ہر کام کے دونوں کنارے ( اِفراط و تفریط) مذموم ہیں اور درمیانی راہ مقصود ہے جو ممکن بھی ہے ۔ البتہ مرشد جو اپنے مرید کی اصلاح کررہاہے اُس پر یہ بات لازم ہے کہ وہ مرید